اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 56 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 56

مگر وہ ہستی جو تمام کائنات کا نقطہ مرکزی ہے۔وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کی محتاج نہیں کہ کے بظاہر محمد رصفات میں پراسرار فرق بعض صفات الہیہ بظاہر مکرر نظر آتی ہیں لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر ایک نہایت لطیف اور باریک اور میر اسدانہ فرق ہے اور سیدنا حضرت مصلح موعود نے " دیباچہ تفسیر القرآن میں اس پر نہایت ایمان افروز رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔فرماتے ہیں :- پیدائش کے متعلق اللہ تعالٰی کی کئی صفات بیان ہوئی ہیں۔جیسے خالق کل شیءٍ - اَلْبَدِيعَ - اَلْفَاطِرَ الْخَالِقُ۔الْبَارِى - الْمُعِيدُ - الْمُصَوِّرُ الرَّب - یہ صفات بظاہر - ملتی جلتی نظر آتی ہیں۔لیکن در حقیقت یہ مختلف ممتاز معنوں پر دلالت کرتی ہیں۔خالق کل شیئی رو سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی روح اور مادہ کا بھی پیدا کر نیوالا ہے۔کیونکہ بعض قومیں خدا تعالیٰ کو صرف جوڑنے جاڑنے کا موجب سمجھتی ہیں۔بسیط مادے کا خالق نہیں سمجھتیں۔ان کا خیال ہے کہ مادہ اور روح بھی خدا تعالی کی طرح ازلی اور انادی ہیں۔اگر خالی لفظ خالق ہوتا تو لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی خدا تعالے کو ه دیباچر تفسیر القرآن اگر دو م ۴۷۰ از حضرت مصلح موعود کو