اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 48
منم نازل ہوئیں تو آپنے پوری قوت و شوکت سے دنیا بھر میں اعلان فرمایا کہ :- " میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک پر اور چکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے۔اور اسن۔ا کی اسقدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص۔زیادہ دولتمند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سر ہے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے وہ ہیرا کیا ہے ؟ ستیجا خدا اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا اور سنچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اسی تعلق پیدا کرنا اور بیچتی برکات اس سے پانا پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ میں بنی نوع کو اسی محروم رکھوں اور وہ تھو کے مریں اور میں عیش کروں یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہوگا۔میرا دل ان کے فقرو فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہے۔ان کی تاریکی اور تنگ گذرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر اُن کو اتنے ملیں کہ اُن کے دامن استعدا دیر ہو جائیں " سے ه اربعین نمبر صفحه ۳۲ وارد خانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۴۴، ۳۴۵) بیت پیشه