اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 87
AL الرحمن الرحيم مالك يوم الدين - ان صفات اربعہ پر غور کر نے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آ جاتا ہے۔ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اور اس میں کل مخلوق کی گل حالتوں میں تربیت اور اسکی تکمیل کے تکفل کی طرف اشارہ ہے۔غور تو کرو جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر سوچتا ہے تو اس کی اُمید کس قدر وسیع ہو جاتی ہے۔اور پھر رحمانیت یہ ہے کہ بدوں کسی عمل عامل کے ان اسباب کو مہیا کرتا ہے جو بقائے وجود کے لئے ضروری ہیں۔دیکھو چاند سورج ، ہوا ، پانی وغیرہ بڑی ہماری دعا اور التجا کے اور بغیر ہمارے کسی عمل اور فعل کے اُس نے ہمارے وجود کے بقا کے لئے کام میں لگا رکھے ہیں اور پھر رحیمیت یہ ہے کہ اعمال کو ضائع نہ کرے اور مالکیت یوم الدین۔۔۔۔۔۔۔۔با مراد کرتی ہے۔دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اسے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی مگر خدا تعالی کی گورنمنٹ کامل گورنمنٹ اور لا انتہا خزائن کی مالک ہے۔انکی حضور کوئی کمی نہیں۔کوئی عمل کرنے والا ہو۔وہ سب کو فائز الحرام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔پس خوب یاد رکھو کہ یہ امہات الصفات روحانی طور پر خدا نما تصویر ہیں۔ان پر غور کرتے ہی معا خد ا سامنے ہو جاتا ہے اور روح ایک لذت کے ساتھ اچھل کر اسکے سامنے سر سجود ہو جاتی ہے " ہے ه : " تفسیر درة فاتحہ " طلا ۱۲ دالحکم او را گست شله ملت ) :