اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 85
صفات اللہ کا لطیف خلاصہ سورہ فاتحہ میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب صفات الہیہ بے شمار ہیں تو خدا کا ایک عاشق جو سیر الی اللہ کی منازل طے کر رہا ہو ، خاص طور پر کن صفات کے ذکر وفکر میں مشغول رہے کہ ہر محہ خدا تعالیٰ کا پاک چہرہ اُس کے قلب پر منعکس رہے اور اس کے آسمانی سفر کی ہر دوسری منزل پہلی منزل سے زیادہ آسان ہو جائے اور وہ خُدا کے دربار شاہی میں باریابی کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے ؟ اس مقالہ کے اخت تمامی حصہ میں خاکسالہ اس اہم ترین سوال کے بارہ میں ہی مختصراً عرض کرنا چاہتا ہے۔سو واضح ہو کہ دوسرے مذاہب عالم تو اس کے جواب میں بالکل گنگ اور ساکت و صامت ہیں مگر اسلام نے سائنٹیفک اندان اور عملی طریق پر اس کو حل فرما دیا ہے اور وہ اس طرح کہ قرآن عظیم کے ابتداء میں سورۃ فاتحہ رکھدی جس کی نسبت انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا نَزَلَ اللَّهُ فِي التَّورِيةِ وَلَا في الأنجيلِ وَلَا فِى الزَّبُورِ وَلَا فِي الفُرْقَانِ مِثْلَهَا : له کہ مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات، انجیل ، نہ پور بلکہ فرقان میں بھی ایسی عظیم الشان سورت نازل نہیں فرمائی۔ه : سیرت حلبیہ جلد ا ص :