اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 84
ہم آج بھی اسی قدر بے خبر ہیں جس قدر آج سے ۲۴۰۰ (دو سبز اللہ چار سو سال بیشتر حکمائے یونان۔یا دو سو سال پہلے نیوٹن اور اسپینوزا یا سو سال پہلے کانٹ اور گوئیلٹے بے خبر تھے۔ہمیں تو بلکہ اس امر کا بھی اعتراف کر لینا چاہیئے کہ ہم جس قدر اس جو ہر کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جیسی یہ کائنات مرکب ہے۔مادہ اور توانائی جیسی خصائص ہیں۔وہ اور معمہ بنتا جا رہا ہے۔ہم اس کی محسوس شکلوں کا اور ان کی ارتقائی منازل کا علم تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن ان محسوس شکلوں کے پیچھے جواصل حقیقت ہے اس کے متعلق ہم کچھ بھی نہیں جان سکتے " اے ر اسی طرح سر فرانس بینگ ہینڈ - CSIR FRANCIS YOUNG (HUSBAND نے اپنے ایک مقالہ میں واضح اقرار کیا ہے کہ : - وو ہم سے جو سائنس سے جو کچھ معلوم کر سکے ہیں وہ اتنا ہی ہے کہ علم کا سمند رہے کنا ر ہے۔ہم یہی معلوم کر سکتے ہیں کہ فطرت کے متعلق ہم کبھی بھی سب کچھ جان نہیں سکتے " ہے √ "THE RIDDLE OF THE UNIVERSE" PAGE 310, ERNST۔NAECKEL) بحوالہ انسان نے کیا سوچا " از جناب غلام احمد پر دیره ناشر ادارہ طلوع اسلام - کراچی - GREAT DESIGN" PAGE 254۔< THE بحوالہ انسان نے کیا سوچا از جناب غلام احمد پر ونیز هم ناشر اداره طلوع اسلام کراچی به