اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 80
A۔حضر مصلح موعود اور ایک جھوٹا صوفی موعود اور جھوٹے ایک دفعہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ایک شخص نے سوال کیا۔کہ کشتی کا سوال جب کنارہ پر پہنچے تو کشتی میں بیٹھا ر ہے یا اتر آئے۔یہ شخص ایک جھوٹا صوفی تھا اور سمجھتا تھا کہ جب تک خُدا کا یقین حاصل نہ ہو۔عبادت فرض ہے۔لیکن جب حاصل ہو جائے تو اسے ترک کر دینا چاہیئے۔حضرت مصلح موعود نے آسمانی فراست کے نور سے اُس کے سوال کا پس منظر معلوم کر لیا اور فرمایا کہ : اگر در یا محدود ہے اور اس کا کنارہ ہے تو کنارے پر اتر آئے لیکن اگر دریا ہے کنارہ ہے تو جس کو وہ کنارہ سمجھتا ہے وہ اس کی عقل کا دھوکا ہے۔اسلئے وہ جہاں اترے گا ، وہیں ڈوبے گا ، اس پر وہ سخت شرمندہ ہوا۔اسے خواص اشیاء بھی ختم نہیں ہو سکتے اللہ جل شانہ کی صفات غیر محدود اور اس کی قرب کی راہ میں بے شمارہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حق تعالٰی کے ایک ہی جلوہ سے دنیا کی ہر ایک چیز میں ایک ایسی خاصیت پیدا ہو گئی ہے جسکی وہ خدا تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں له : " تفسیر کبیر جلد سوم ص :