اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 66
سکتیں۔اسکی دلیل یہ دی ہے کہ وہ لطیف چیز ہے۔عصرحا کے سائنسی اکتشافات اور ایجادات نے ثابت کر دکھایا ہے کہ اس کائنات کی تخلیقی کڑیاں جوں جوں لطیف سے لطیف تر ہوتی جاتی ہیں۔ان میں بے پناہ قوت کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔مثلاً مادہ ( ATOM) ہے جسے ذرہ کہتے ہیں۔ایٹم کیا ہے ؟ اور اس کے نیو کلیٹس ( NUCLEUS )۔پروٹونز (PRO TONS ) الیکٹرونز (ELECTRONS) اور نیوٹرونز (NEUTRONS) اور دوسرے بنیادی ذرات FUNDAMENTAL PARTICLES) OF ATOM کی ساخت کیا ہے اور کس طرح ان کو توڑ کر ایٹی توانائی حاصل کی جاتی ہے ؟ مجھے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ وہ ایٹم جس کی بے پناہ اور خوفناک قوت و طاقت نے دنیا میں زبر دست تہلکہ مچا دیا ہے اور سائنسدان اس کی ہلاکت آفرینیوں اور بربادیوں کے تصور سے لرز رہے ہیں۔کسی نے آج تک اس کو نہیں دیکھا اور آپ یہ معلوم کر کے یقینا حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ آکسیجن (OXYGEN) کے کہا اربوا، گھر یوں ایٹم کی ضخامت بال کے ایک ٹکڑے کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ایک انچ میں ۱۲ کروڑ 2 لاکھ ایٹم در کاغذ کے پن کے سرپر ایک ہی لائن میں تقریب میں لکھ ایٹم رکھے