اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 47
ایک اور دعائیہ نظم کے چند پر معارف دعائیہ اشعار ملاحظہ ہوں :- اسے خدا سے کار رسانه و عیب پوش و کردگار اسے میرے پیاسے مرے محسن مرسے پروردگار اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جانی دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سے کوئی کرتا ہو پیار نسل انسان میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یاد غمگسار اس قدر مجھ پہ ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران نفع و عسر و شیر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار جس کو چاہیے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہتے تخت سے نیچے گرادے کر کے خوار میں بھی ہوں تیرے نشانوں سےجہاں میں اک نشاں جس کو تو نے کر دیا ہے قوم و دیں کا افتخار فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا د سے ہزار سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم پر قراللہ وجود باری کی نسبت پر شوکت اعلان جناب الہی کی آسمانی عنایات وبرکات جب بارش کی طرح حضرت اقدش پر