اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 46
الم بیاں اس کا کیوں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احسان ترے ہیں میرے ہادی نسبحان الذي اخرى الاعادي تیری رحمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب سفر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احسان ہیں تیرے میرے ھادی نسبحان الذي اخرى الاعادي ترسے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں خدمت کیا ہے جسے تجھ کو پادری محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کسی کو بتاؤں وفا کیسا لا نہ ہے کیس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھیاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیا ئے بادی سبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعادِي