اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 31 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 31

اور عظمت اور تقدس بے انتہا ہے۔اور یہ کہنات آنی تعلیم کی رو سے سخت مکر وہ گناہ ہے۔کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اورعظمتیں اور رحمتیں ایک حد یہ جا کر ٹھہر جاتی ہیں۔یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اس کا ضعف اُسے مانع آجاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدرتیں اسی مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثناان امور کے تو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کا ملہ کے مخالف ہیں یا اسکی مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کہ سکتا ہے مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے۔کیونکہ یہ بات اس کی صفت قدیم، حتی و قیوم ہونے کے مخالف ہے۔وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قوں میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ انزلی ابدی اور غیر فانی ہے۔اور موت اس پر جائزہ نہیں۔ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھانا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلاتا پیدا ہو جاتا ہے۔اور روٹی کھانا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کہ اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں اور اس کے - جلالی قدیم اور کمال نام کے برخلاف ہیں۔نور القرآن حصہ دوم مادر وحانی خزائن جلد - ۴۸۹