اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 30 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 30

زمین و آسمان کی رو میں اور ذرات اجسام اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اور جس کا پر میشر نام ہے وہ کسی نامعلوم سبب محض ایک راجہ کے طور پر ان پر حکمران ہے اور نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے ایک انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کہ ایک نکار جسم سے جو بہت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کا لہ عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں اہلیت کا حصہ رکھتا تھا۔خون اور بڑی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جوہ بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چیچک دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں وہ سب اٹھائیں۔اور بہت ساحقہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کہ آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی۔مگر چونکہ صرف دعوی ہی دعویٰ تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں۔اس لئے دعویٰ کے ساتھ ہی پکڑا گیا۔بلکہ ان سب نقصانوں اور ناپاک حالتوں سے خُدائے حقیقی ذوالجلال کو مننہ اور پاک سمجھتا ہے۔اور اس وحشیانہ غصہ سے بھی اس کی ذات کو یز نہ قرار دیتا ہے۔کہ جب تک کسی کے گلے میں پھانسی کا رستہ نہ ڈالے تب تک اپنے بندوں کے بخشنے کے لئے کوئی سہیل اس کو یاد نہ آوے اور خدا تعالی کے وجود اور صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ بیچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے۔کہ اس کی قدرت اور رحمت