اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 104 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 104

۱۰۴ بے خودی اور ربودگی اور بے ہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غونہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو شخوصہ سے بہت ہی مشابہ ہے۔باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے۔اور جب وہ گونج کچھ فرد ہوتی ہے تو ناگہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزوں اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتی ہے۔اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت مجیب امر ہے۔جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔یہی حالت ہے جیسی ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے یا اے صورت سوم الہام کی یہ ہے کہ نرم اور آہستہ طور پر انسان کے قلب پر اتقاء ہوتا ہے یعنی ایک مرتبہ دل میں کوئی کلمہ گذر جاتا ہے جس میں وہ عجائبات بہ تمام دکھاں نہیں ہوتے کہ جو د دسری صورت میں بیان کئے گئے ہیں۔بلکہ اس میں ربودگی اور غنودگی بھی شرط نہیں۔بسا اوقات عین بیداری میں ہو جاتا ہے اور اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا غیب سے کسی نے وہ کلمہ دل میں پھونک دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔انسان کسی قدر بیداری میں ایک استغراق اور محویت کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی بالکل بیدار تیرا بین احمدیه ۳۳-۲۳۷ حاشیه در حاشیه ملا :