اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 64 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 64

۶۴ طاقیتی اور قوتیں پیدا نہیں کر سکتے۔پس جب تک خدا کو ذرات عالم اور ارواح کی تمام قوتوں کا موجد نہ ٹھہرایا جائے تب تک خدائی اس کی ہر گنہ ثابت نہیں ہو سکتی۔اور اس صورت میں اس کا درجہ ایک معمار یا نجار یا حداد یا گلکر سے ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔یہ ایک بدیہی بات ہے بورڈ کے قابل نہیں " لے لطیف خبر خدا اسلامی تصور کے مطابق اللہ جل شانہ خدا تعالیٰ ہر جگہ حاضر ناظر ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے :۔وَهُوَ مَتَكُمْ أَيْنَمَا كُنتُمْ (الحديد : ) یعنی جہاں کہیں تم ہو اسی جگہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔اسی طرح قرآن شریف میں فرمایا : سیر هُوَ الاول والآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ (الحديد : ٤) یعنی خدا سے پہلے ہے اور باوجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور وہ سر سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے اور پھر فرمایا : - اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) تورا یعنی خدا ہر ایک چیز کا نور ہے ، اسی کی چک ہر چیز میں ہے خواہ دہ : - "نسیم دعوت " ص ۱۳۰۲ در روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۳-۲۸۴ $ (۔