الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 96
ضمیمه حقيقة الوحي ۹۶ الاستفتاء وإذا ذهــب الـديـن فلاحیات اور جب دین چلا جائے تو پھر کوئی زندگی نہیں اور والذي ضاع دينه يشابه الأموات جس کا دین ضائع ہو گیا تو وہ مردوں کے مشابہ وترون أن الكفر كسر ضلوع ہے۔اور تم دیکھ رہے ہو کہ کفر نے اسلام کی پسلیاں الإسلام، وما بقى منه إلَّا اسم توڑ دی ہیں اور عوام کی زبان پر اب اس کا صرف على ألسن العوام ووالله إنّ نام ہی باقی رہ گیا ہے۔اللہ کی قسم ! یہ شیر (یعنی هذا الأسد قد جُرّح من الكلاب، اسلام کتوں سے زخمی ہو گیا ہے اور شکار کرنے کی ورضى من الافتراس بالإياب، بجائے پسپائی پر راضی ہو گیا ہے۔اور کشتی میں ہلاک وقعد من الفُلْكِ بمثابة الهلک ہونے والوں کی جگہ پر جا بیٹھا ہے یہی وجہ ہے کہ ولذالك مسكم من كلّ طرف تمھیں ہر طرف سے دکھ اور تلخ زندگی ملی اور آفات ضر، وعيش مُر، والآفات نے تمہیں اپنارفیق منتخب کر لیا ہے گویا ان ( آفات ) اختارتكم صحبًا، كأنها وجدت نے تمہارے صحنوں کو کشادہ پایا اور تم ہر روز ان فناء كم رَحبًا، وإنكم تحتها كلّ آفتوں کے نیچے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاتے ہو۔تم يوم تكسرون۔وترون أن الآفات دیکھ رہے ہو کہ تم پر آفتیں پے در پے نازل ہو رہی تنزل عليكم تترا، وتبتر بتراء ہیں اور تمہیں نہس نہس کر رہی ہیں اور کوئی آفت تم پر ولا تسقط عليكم آفة إلا وهى نازل نہیں ہوتی مگر وہ اپنے جیسی پہلی آفت سے أكبر من أُختها، ثم لا تخافون۔بڑی ہوتی ہے مگر پھر بھی تم خوف نہیں کرتے۔وقد رأيتم ما نزل من الآفات اور تم نے دیکھا ہے جو آفات نازل ہو چکیں، وبعضها نازل بعدها في أسرع کچھ آفات ان کے بعد بھی جلد نازل ہونے والی الأوقات، فتوبوا إلى بارئكم ہیں۔پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف لعلكم تفلحون۔وكيف تُرجى رجوع کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔تم سے تو بہ کی امید منكم التوبة وما تأتيكم کیسے رکھی جا سکتی ہے جب کہ جو نشان بھی آية إلا عنها تُعرِضُون؟ تمہارے پاس آتا ہے تم اس سے بے رخی کرتے ہو