الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 91
ضميمه حقيقة الوحي ۹۱ الاستفتاء ثم مع ذالك لحق بالأموات، ودخل پھر بھی اس کے باوجود مردوں سے جاملا ہے اور ان معهم في الجنّات ويقولون إنه كے ساتھ جنتوں میں داخل ہو گیا ہے اور وہ کہتے يترك صحبة الموتى في آخر الأيام، ہیں کہ وہ آخری زمانے میں مردوں کی صحبت ترک وينزل إلى بعض أرضين، ويمكث کر دے گا اور کسی سرزمین پر نازل ہوگا اور چالیس إلى أربعين، ثم يرحل من هذا سال تک ٹھہرا رہے گا۔ پھر وہ اس جگہ سے کوچ المقام، ويلحق بالأموات إلى کرے گا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے مردوں سے جا الدوام۔ هذه خلاصة اعتقاداتهم ملے گا ۔ یہ ان کے اعتقادات کا لب لباب اور ان کی وملخص خرافاتهم۔ فبقينا متحيرین خرافات کا خلاصہ ہے۔ پس ہم اس اس ہذیان آمیز من هذا البيان، مع هذا الهذيان ۔ بیان سے حیرت زدہ ہو گئے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا لا أعلم أجَرَّتُهم إليه الأهواء ، أو خواہشات نے انہیں اس کی طرف کھینچا ہے یا وہ غلبت عليهم السوداء؟ ما لهم إنهم سودائی ہو گئے ہیں۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ باوجود مع طول الزمان، وتلاوة القرآن، ما اهتدوا إلى الحق إلى هذا الأوان؟ ایک زمانہ گزر جانے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے وہ اب تک حق کی طرف ہدایت نہیں پاسکے ؟؟ فما أفهم من أي قسم هذا الجنون، وقد مضت عليه القرون؟ فواللہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ جنون کس قسم کا ہے حالانکہ ۳۸ قد حيرني إصرارهم على أمر اس پر صدیاں بیت گئیں۔ پس اللہ کی قسم! مجھے مخالف قرآن اور ایمان کی بیخ کنی کرنے والے امر يخالف القرآن، ويجيح الإيمان۔ وقد جاء هم حكم من الله بالحق پر ان کے اصرار نے حیران کر دیا ہے۔ جب کہ والحكمة على رأس المائة، صدی کے سر پر ہر قسم کی بدعت کے غلبہ اور کافروں وعند غلبة كل نوع البدعة کے غلبہ پا جانے کے وقت اللہ کا حکم حق اور حکمت وغلبة الكفرة، فأعجبني أنهم لے کر ان کے پاس آیا۔ پس مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لأي سبب أنكروه، وهو يدعو کس وجہ سے انہوں نے اس کا انکار کیا ہے حالانکہ الزمان والزمان يدعوہ وہ زمانے کو پکار رہا ہے اور زمانہ اسے پکار رہا ہے۔