الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 87
ضمیمه حقيقة الوحي ۸۷ الاستفتاء وأقرب القصص من هذا الوقت اس وقت قریب ترین واقعہ اس شخص کا ہے جو قصة رجل مات في ذي القعدة، ذیقعدہ میں مرا۔اور وہ شخص مجھ پر لعنتیں ڈالا کرتا وكـان يـلـعـنـنـی ویستنی و کان اور مجھے گالیاں دیا کرتا تھا۔اور اس کا نام سعد اللہ تھا (۳۶) اسمه سعد الله ، وكان سبه اور اس کی گالیاں نیزہ کی مانند تھیں اور جب اس کا گالی گلوچ انتہا کو پہنچ گیا اور وہ اذیت دینے میں كالصَّعُدة۔وإذا بلغ شتمه إلى منتهاه، وسبق في الإيذاء كل من دوسروں سے سبقت لے گیا تو میرے رب نے مجھے اس کی موت کی نسبت اور اس کی رسوائی اور سواه، أوحى إلى ربّي في أمر اس کی قطع نسل جس کا اس نے فیصلہ کر دیا تھا جی کی اور اس نے کہا ” تیرا دشمن ابتر رہے گا“۔چنانچہ میں نے اس وحی کولوگوں میں شائع کر دیا جو میرے موته وخزيه وقطع نسله بما قضاه، وقال: إن شانئك هو الأبتر، فأشعتُ بين الناس ما بزرگ و برتر رب نے کی تھی۔پھر اس کے بعد اللہ أوحى ربى الأكبر۔ثم بعد نے میرے الہام کو سچ کر دکھایا۔تب میں نے ارادہ ذالک صدق الله إلهامي کیا کہ میں اپنی گفتگو میں اس کی تفصیل بیان فأردت أن أفـصـلــه في كلامی کروں۔اور اسے شائع کروں جو فتنہ پرداز اور وأشيـع مــا صـنـع الـلـه بذالك رحمان خدا کے بندوں کے دشمن کے ساتھ اللہ نے الفتان، وعدوّ عباد الله الرحمن سلوک کیا لیکن ایک وکیل نے جو میری جماعت فمنعني من ذالک وکیل کان سے تھا مجھے اس سے روکا اور میرے اشاعت من جماعتي، وخوفنى من إرادة کے ارادہ سے مجھے ڈرایا۔اور کہا کہ اگر آپ نے إشاعتي، وقال: لو أشعتها لا تأمن اسے شائع کیا تو آپ حکام کی ناراضگی سے بچ نہ مقْتَ الحكام، ویجُرک القانون سکیں گے۔اور قانون آپ کو جرم کی طرف إلى الآثام، ولا سبيل إلى کھینچ لے جائے گا اور مخلصی کی کوئی سبیل نہ الخلاص، ولات حین مناص ہو گی اور نجات کی کوئی راہ باقی نہ رہے گی