الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 86

ضمیمه حقيقة الوحي ۸۶ الاستفتاء يــا قـوم لــم تتعـامـون وأنتم اے میری قوم ! تم جان بوجھ کر کیوں اندھے بنتے تبصرون؟ ولم تتجاهلون وأنتم ہو جبکہ تم دیکھتے ہو اور عمدا کیوں جاہل بنتے ہو حالانکہ تم تعلمون؟ أما علمتم عاقبة الذين جانتے ہو۔کیا تمہیں ان لوگوں کا انجام معلوم نہیں جو استہزاء کیا کرتے تھے؟ تم بھڑ کی طرح کاٹتے ہو كانوا يستهزؤون؟ تلدغون كالزنبور، وتؤذون رجلا اغتم اور تم اس شخص کو اذیت دیتے ہو جس نے چراغ کی طرح نور کا عمامہ پہنا ہوا ہے۔اور چودھویں کے چاند كالسراج بالنور، وتهرون برؤية کو دیکھ کر بھونکتے ہو اور صلحاء چودھویں کے چاند کی البدور۔وأبدر الصلحاء وأنتم روشنی سے فیض پارہے ہیں جبکہ تم اندھیرے میں تُظلمون، وجاء الناس وأنتم ہو۔اور لوگ میری جانب آئے حالانکہ تم مجھ سے تهربون۔وكم من مُستهزء بھاگ رہے ہو اور کتنے ایسے استہزاء کرنے والے ہیں أخبروا بموتى كأنهم الهموا من جنہوں نے میری موت کی پیشگوئی کی گویا انہیں الله العلام، وأصروا عليه علام خدا سے الہام ہوا ہے اور انہوں نے اس پر وأشاعوه في الأقوام، فإذا الأمر اصرار کیا اور قوموں میں اس کی تشہیر کی۔پس تب معاملہ بالضد، وردّ الله مزاحهم عليهم اس کے برعکس رہا۔اور اللہ نے ان کے اس استہزاء کو كالجد، وماتوا في أسرع وقت حقيقت بنا کر انہیں پر الٹادیا اور وہ اپنے الہام کے " بعد إلهامهم، وتركوا حشیش بعد بہت جلد مر گئے اور انہوں نے اپنے چار پایوں ندامة وذلّة لأنعامهم۔کے لئے ندامت اور ذلت کا خشک گھاس چھوڑا۔ورُبَّ مؤذ ما آذونى إِلَّا اور کچھ ایذا دینے والوں نے مجھے صرف اس لئے ليظهر الله بهم بعض الآيات اذیت دی تاکہ ان کے ذریعے اللہ بعض نشان وقد قصصنا قصصهم فی ظاہر کرے۔اور ہم نے ان کے قصے حقیقۃ الوحی حقيقة الوحی“ لتکون میں بیان کر دیئے ہیں تا کہ وہ حق کے طالبوں تبصرة للطالبين و الطالبات اور طالبات کے لئے بصیرت افروز ہوں۔