الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 85
ضمیمه حقيقة الوحي ۸۵ الاستفتاء وتفارقكم كل سنة أعِزّتكم اور ہر سال تمہارے عزیز مرکز تم سے بچھڑ رہے ہیں بموتهم، فلا تستطيعون غير ان پس تمہارے بس میں جزع فزع اور آہ و بکا کے سوا يفزع ويبكى وما كان الله کچھ نہیں اور اللہ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب میں معذب قوم حتى يبعث رسولا مبتلا نہیں کرتا جب تک وہ رسول نہ بھیج لے تا کہ وہ ليتم الحجة، والأمر يُقضى حجت تمام کرے اور معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے۔هكذا قال الله في كتابه وهكذا اور اللہ نے اپنی کتاب میں ایسا ہی فرمایا ہے۔اور پہلی خلت سُنّته فى أمم أولى۔فما امتوں میں بھی ایسی ہی اس کی سنت جاری رہی لكم لا تعرفون إمامًا أرسل ہے۔پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اس امام کو نہیں إليكم، ولا تتبعون داعيًا أقيم پہچانتے جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور اس داعی کی فيكم؟ ألا تـعـلـمـون مـآل من اتباع نہیں کرتے جو تم میں کھڑا کیا گیا ہے؟ کیا تم كذب وأبي؟ أرضيتم أن تموتوا تکذیب کرنے والے اور انکار کرنے والے کا انجام ميتة الجاهلية ثم تُسألوا فی نہیں جانتے ؟ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تم جاہلیت العُقبى؟ وأنتم تُهدون إلى الطيب كى موت مرو اور پھر آخرت میں تمہاری باز پرس ہو؟۔کی من القول، فما لكم تؤثرون اور تمہاری راہنمائی تو قول طیب کی جانب کی جارہی الكدر وتتركون الأصفى؟ ہے پھر نہ جانے تم کیوں پاک صاف چیز کو چھوڑتے تدعون من جاء كم، وتدعون ہوئے گدلی چیز کو ترجیح دیتے ہو۔جو تمہارے پاس آیا الميت من السماوات العلی اسے تو تم چھوڑتے ہو اور مردے کو بلند و بالا آسمانوں وتسبون وتشتمون، وتقولون ما سے بلا رہے ہو اور سب وشتم کرتے ہو اور جو منہ میں بلا ہواور جومنہ تقولون، ولا تخافون يوما تحضر آئے کہتے چلے جاتے ہو اور اس دن سے نہیں ڈرتے فيه كل نفس لتجزى۔وليس نبی جس دن ہر نفس جزاء وسزا کے لئے حاضر کیا جائے گا ذليلا إلَّا في وطنه، فسبوا اور نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں۔بے شک واشتموا والله يسمع ويرى۔سب وشتم سے کام لو، اللہ تو سنتا اور دیکھتا ہے۔