الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 72

ضمیمه حقيقة الوحي ۷۲ الاستفتاء وليس متاعهم إلا كلام، ولا صرف باتیں ہی ان کا اثاثہ ہوتی ہیں۔نہ ان کی يؤيدون ولا يباركون تائید کی جاتی ہے اور نہ انہیں مقبولوں کی طرح كالمقبولين۔ومن سنن الله أنه برکت دی جاتی ہے اور سنت الہی یہی ہے کہ جب إذا بارز أحد من المكذبين مذبوں میں سے کوئی کسی صادق کا مقابلہ کرتا اور صادقا وقام للمنازعة، أو اس سے برسر پیکار ہونے کے لئے کھڑا ہوتا ہے یا اشتبك معه بنيّة المباهلة، صرعه مباہلے کی نیت سے اس سے پنجہ آزمائی کرتا ہے تو الله بالخزى والذلة، وکذالک اللہ اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ زمین پر شیخ دیتا جرت عادة حضرة الأحدية ہے۔حضرت احدیت کی سنت اسی طرح جاری ليفرق بين الصدیقین ہے تاکہ وہ بیچوں اور جھوٹ گھڑنے والوں کے والمزوّرين۔إنّ المزوّرين لا درمیان فرق کردے کیونکہ اللہ کی طرف سے يُنصرون من الله، ولا يؤيدون جھوٹوں کی مدد نہیں کی جاتی اور نہ روح اللہ سے ان (۳۰) بروح منه، ولا توافيهم نور من کی تائید کی جاتی ہے اور نہ آسمانی نور انہیں حاصل السماء ، ولا تُقدَّم إليهم مائدة ہوتا ہے اور نہ صلحاء کا مائدہ ان کے سامنے پیش کیا الصلحاء ، وما هم إلا كلاب جاتا ہے اور وہ محض دنیا کے کتے ہوتے ہیں تو انہیں الدنيا، تجدهم عليها متمایلین اس پر جھکے ہوئے پائے گا۔نیز تو ان کے سینوں کو وتجد صدورهم مملوة من شحها اس (دنیا) کی طمع سے بھرے ہوئے پائے گا اور وہ وهم على أنفسهم من الشاهدين۔خود اپنے خلاف گواہی دینے والے ہیں اور انجام کار ويُخزَون في مآل أمرهم، وهناک وہ رسوا کئے جاتے ہیں۔تب ایک امتیاز کرنے والا يُعرف وجود مميز يميز الخبيث وجود پہچانا جائے گا جو نا پاک کو پاکیزہ لوگوں سے الگ من الطيبيين۔والذين صدقوا عند کرے گا۔اور وہ لوگ جو اپنے رب کے نزدیک ربهم قد ثنى الله تعالى عن الدُّنيا صادق ٹھہرے تو اللہ نے ان کی عنان توجہ کو دنیا عنانهم، وعطف إليه جنانهم سے پھیر دیا اور ان کے دلوں کو اپنی طرف جھکا لیا