الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 71
ضميمه حقيقة الوحي ال الاستفتاء أكفرت بكتاب الله، أو أنكرت کیا میں نے کتاب اللہ کا انکار کیا ہے یا اس کا جو رسول ما جاء به المرسلون؟ أو ما رأيتم لے کر آئے ؟ یا تم نے اللہ کے نشانوں کو نہیں دیکھا آيات الله فلذالك ترتابون؟ أو جس کی وجہ سے تم شک کر رہے ہو یا میں تمہارے جئتكم في غير الوقت فقلتم جاء پاس بے وقت آیا ہوں ۔ پس تم نے کہا یہ آیا ہے جیسے كما يجيء المزوّرون ؟ ما لكم لا جھوٹے آیا کرتے ہیں ۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ نہ تو تم تعرفون الحق ولا تبصرون ؟ انظروا حق کو پہچانتے ہو اور نہ اسے دیکھتے ہو۔ گزشتہ امتوں إلى الأمم الخالية من المفترين کے مفتریوں اور خدا پر جھوٹ باندھنے والی فانی مخلوق والخليقة الفانية من المتقولين ۔۔ پر نگاہ دوڑاؤ، کس طرح اللہ نے ان کے افتراء کی وجہ كيف انتسفهم الله لافترائهم، سے انہیں ریزہ ریزہ کر دیا، انہیں ہلاک کیا اور ان کا وأهلكهم وما أبقى شيئًا من نبئهم، نام و نشان تک باقی نہ رہنے دیا۔ اور ان کے نشان مٹا ومحا آثارهم، وأفنى أنصارهم، لما دیئے اور ان کے مددگاروں کو نابود کر دیا اس لئے کہ وہ كانوا كاذبين، وللصادقين منافسين جھوٹے تھے اور صادقوں سے مقابلہ کرتے تھے اور اگر ولو لا تفريق الله بين الحق والباطل حق و باطل کے درمیان اللہ کی تفریق نہ ہوتی تو امان لارتفع الأمان، وتشابه الخبيث اٹھ جاتی اور ناپاک اور پاک ، ویرانے اور آبادیاں والطيب والخرب والعمران، ولم يبق یکساں ہو جاتے ۔ اور مقبولوں اور مردودوں کے فرق بين المقبولين والمردودين۔ درمیان کوئی فرق نہ رہتا۔ اعلموا رحمكم الله أن عمر اللہ تم پر رحم فرمائے ! تم جان لو کہ افتراء کی عمر الافتراء قليل والمفتری فی تھوڑی ہوتی ہے اور مفتری اپنی عمر کے آخر پر ذلیل آخر عمره ذليل ۔ ثم المفترون ہوتا ہے۔ مزید براں مفتری لوگ بے یارو مددگار قوم مخذولون لا ينصرهم رب قوم ہوتے ہیں۔ ربّ علام الغيوب ان کی علام، ولا يشهد الله لهم مدد نہیں کرتا اور نہ ہی اللہ ان کے حق میں شہادت وليست في كنانتهم سهام دیتا ہے اور نہ ان کے ترکش میں تیر ہوتے ہیں