الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 61

ضميمه حقيقة الوحي ٦١ الاستفتاء وتنصرون بأقوالكم أعداء اور اپنے اقوال کے ذریعہ دین کے دشمنوں کی مدد کر الدين ۔ إن الله أرسل عبدًا عند رہے ہو۔ اللہ نے اس طوفان کے وقت پر ایک هذا الطوفان، وأنتم تُكفرونه بنده کو مبعوث فرمایا ہے اور تم ہو کہ اس کی تکفیر کر وتخرجونه من دائرة الإيمان رہے ہو اور اسے دائرہ ایمان سے خارج کر رہے وقد جاء بنور تجلى، وبالمعارف ہو حالانکہ وہ روشن نور اور خوبصورت معارف کے تحلى، ليكون حجة الله علی ساتھ آیا ہے تا کہ اسلام کی سچائی پر اللہ کی حجت ہو اور تا دین کا سورج تاریکی سے باہر نکل آئے صدق الإسلام، ولتخرج شمس الدين من الظلام، وليدافع الله اور تا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ضر کو اور تلخ زمانے کو دور کرے اور تا وہ اسلام کے سایہ کو لمبا کرے عنه الضر، والزمن المُرَّ، وليمد ظله ويكثر ثماره، ويرى الخلق أنواره، وليشاهد الناس أنه أزيد اور اس کے پھلوں کو بڑھائے اور اس کے انوار خلق خدا کو دکھائے ۔ اور تا لوگ مشاہدہ کر لیں کہ وہ (اسلام ) ہر دوسرے دین سے کیفیت اور من كل دين، في كيف وكم وتم کمیت اور اصلاح و درستگی میں بڑھ کر ہے۔ پھر ورم، ثم أنتم تكفرون به، بل أنتم بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو۔ بلکہ تم اول درجہ أول المعادين۔ وظننا أنكم صفو کے دشمن ہو۔ اور ہم نے تو یہ خیال کیا تھا کہ تم الزمان، وعين جارية للظمآن زمانے کے چنیدہ اور پیاسوں کے لیے جاری فظهر أنكم ماء كدر لا يوجد في چشمہ ہو۔ مگر ظاہر یہ ہوا کہ تم گدلا پانی ہو اور اس الكدورة مثلكم في البلدان گدلے پن میں تمام دنیا میں تم جیسی کوئی نظیر وجادلتم، فأكثر تم جدالکم حتی نہیں پائی جاتی۔ پس تم نے جھگڑا کیا اور خوب سبقتم السابقين، وجاوزتم جھگڑا کیا یہاں تک کہ پہلے تمام لوگوں پر سبقت الحدود، ونقضتم العهود لے گئے اور تم نے حدود سے تجاوز کیا، عہدوں کو توڑا اور مسلمانوں کو کا فر قرار دیا۔ وكفرتم المسلمين۔