الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 61
ضمیمه حقيقة الوحي ۶۱ الاستفتاء وتنصرون بأقـو الـكـم أعداء اور اپنے اقوال کے ذریعہ دین کے دشمنوں کی مدد کر الدين۔إن الله أرسل عبدًا عند رہے ہو۔اللہ نے اس طوفان کے وقت پر ایک هذا الطوفان، وأنتم تُكفرونه بنده كو مبعوث فرمایا ہے اور تم ہو کہ اس کی تکفیر کر وتخرجونه من دائرة الإيمان رہے ہو اور اسے دائرہ ایمان سے خارج کر رہے وقد جاء بنور تجلى، وبالمعارف ہو حالانکہ وہ روشن نور اور خوبصورت معارف کے تــحـلـى، ليكون حجة الله على ساتھ آیا ہے تا کہ اسلام کی سچائی پر اللہ کی حجت ہو اور تا دین کا سورج تاریکی سے باہر نکل آئے صدق الإسلام، ولتخرج شمس اور تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے ضرر کو اور تلخ زمانے کو دور کرے اور تا وہ اسلام کے سایہ کولمبا کرے عنه الضر، والزمن المُرَّ، وليمة الـديـن مـن الظلام، وليدافع الله اور اس کے پھلوں کو بڑھائے اور اس کے انوار ظله ويكثر ثماره، ويُرى الخلُقَ خلق خدا کو دکھائے۔اور تالوگ مشاہدہ کر لیں کہ أنواره، وليشاهد الناس أنه أزيد وہ (اسلام ) ہر دوسرے دین سے کیفیت اور من كل دين، في كيف و كمّ وثَمٌ کمیت اور اصلاح و درستگی میں بڑھ کر ہے۔پھر ورم، ثم أنتم تكفرون به، بل أنتم بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو۔بلکہ تم اول درجہ أول المعادين۔وظَنَنَّا أنكم صفو کے دشمن ہو۔اور ہم نے تو یہ خیال کیا تھا کہ تم الزمان، وعين جارية للظمآن زمانے کے چنیدہ اور پیاسوں کے لیے جاری فظهر أنكم ماء كدر لا يوجد فی چشمہ ہو۔مگر ظاہر یہ ہوا کہ تم گدلا پانی ہو اور اس الكدورة مثلكم في البلدان گدلے پن میں تمام دنیا میں تم جیسی کوئی نظیر وجادلتم، فأكثر تم جدالکم حتی نہیں پائی جاتی۔پس تم نے جھگڑا کیا اور خوب سبقتم السابقين، وجاوزتم جھگڑا کیا یہاں تک کہ پہلے تمام لوگوں پر سبقت الحدود، ونقضتم العهود لے گئے اور تم نے حدود سے تجاوز کیا، عہدوں کو وكفّرتم المسلمين۔توڑا اور مسلمانوں کو کا فرقرار دیا۔