الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 58

ضميمه حقيقة الوحى ۵۸ الاستفتاء وخاطبني ربي وقال : إنک اور میرے رب نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا تو بأعيننا، فأوفى وعده فی کل ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ پھر اس نے ہر موطن وعند كل كيد من میدان اور تدبیر کرنے والوں کی ہر تدبیر کے موقع الكائدين۔ ونصرنی و آوانی إلیه پر اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور میری نصرت فرمائی و کر کلُّ واحدٍ منکم علی، فلم اور مجھے اپنے پاس پناہ دی اور تم میں سے ہر شخص يتمكن بشر منی فرجعوا نے مجھ پر حملہ کیا لیکن کوئی بشر مجھ پر غالب نہ آسکا خائبين۔ وقطعتم ما أمر الله به أن تب وہ سب کے سب ناکام لوٹے۔ اور جسے اللہ يوصل، وأشعتم بين الناس أن نے ملانے کا حکم دیا تھا اسے تم نے کاٹا۔ اور تم نے هؤلاء ليسوا من المسلمین لوگوں میں یہ مشہور کر دیا کہ یہ لوگ مسلمانوں میں وتمنيتم أن نكون من سے نہیں ہیں۔ اور تم نے تمنا کی کہ ہم بے یارو المخذولين، فقلب الله علیکم مددگار ہو جائیں لیکن اللہ نے تمہاری یہ خواہشات تم أمانيكم، ونشر ذکر نافی پر الٹا دیں۔ اور ہمارے ذکر کو دنیا میں پھیلا دیا۔ کیا العالمين۔ أهذا جزاء المفترين؟ یہی مفتریوں کی جزا ہے؟ أيها الناس۔۔ لكم لونان : لون اے لوگو! تمہارے دو رنگ ہیں، ایک دل کا رنگ في القلب، ولون في اللسان۔ ہے اور دوسرا زبان کا رنگ ہے۔ زبانوں پر تو ایمان الإيمان على الألسن والكفر في ہے اور دل میں کفر ہے۔ تم نے اقوال رحمان خدا الجنان۔ جعلتم الأقوال للرحمن کے لئے اور اعمال شیطان کے لئے بنارکھے ہیں، والأعمال للشيطان فأين أنتم من سوقرآن کی ہدایت سے تمہارا کیا سروکار؟ تم کتاب هداية القرآن؟ أنتم تقرؤون في كتاب الله أن عيسى ذاق كأس اللہ میں تو پڑھتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے موت کا پیالہ چکھا پھر تم اسے مادی جسم کے ساتھ آسمانوں الممات، ثم ترفعونه مع جسمه العنصري إلى السماوات، فلا پر بھی چڑھاتے ہو۔ پس آیات پر تمہارے أدرى حقيقة إيمانكم بالآیات ایمان لانے کی حقیقت مجھے سمجھ نہیں آتی۔