الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 57
ضميمه حقيقة الوحي ۵۷ الاستفتاء فأستعيذ بالله من مثل حالهم پس میں ان کی اس طرح کی حالت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور مجھے ان پر اور ان کے اقوال پر سخت وأعجب لهم ولأقوالهم وقد تعجب ہوتا ہے۔ یقیناً میں ان میں مامور من اللہ قمت فيهم مأمورا من الله فلا يؤمنون، وأدعو إلى الله فلا کے طور پر کھڑا ہوں پر وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اور میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں پر وہ نہیں آتے اور وہ يأتون، ويمرّون كأنهم ما سمعوا یوں گزر جاتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ﴿۲۴﴾ وهم يسمعون ۔ أما بَلَغَتُهُمُ قصص حالانکہ وہ سن رہے ہوتے ہیں۔ کیا ان تک ان قوم كانوا يكذبون رسلهم ولا لوگوں کے حالات نہیں پہنچے جو اپنے رسولوں ينتهون؟ أم أم لهم براءة في القرآن کو جھٹلایا کرتے تھے اور باز نہیں آتے تھے۔ کیا ان فهم بها يتمسكون؟ وإنّي، والله کے لئے قرآن ، قرآن میں بریت موجود ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں من الرحمن، يكلمني ربي خدائے رحمان کی طرف سے ہوں۔ میرا رب مجھ ويوحى إلى بالفضل والإحسان۔ سے ہمکلام ہوتا اور فضل واحسان کے ساتھ میری وإني نشدته حتى وجدته، وطلبته طرف وحی کرتا ہے میں نے اسے ڈھونڈا تو اسے حتى أصبته۔ وإنّي أُعطيتُ حياةً پایا اور میں نے اس کی تلاش کی تو وہ مجھے مل گیا اور ایک موت کے بعد مجھے زندگی عطا کی گئی۔ اور فانی بعد الممات، ووجدت الحق بعد ترک الفانيات۔ وإن ربنا لا يضيع چیزوں کو چھوڑ دینے کے بعد میں نے حق کو پایا یقیناً ہمارا رب طلب کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا قوما طالبين، ولا يترك في اور جس نے یقین کی تلاش کی وہ اسے شبہات میں الشبهات من طلب اليقين۔ وإنكم پڑا رہنے نہیں دیتا۔ تم نے ہر طرح کی تدبیروں کو مكرتم كل المكر، ولو لا فضل آزما د یکھا اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی الله ورحمته لكنت من الهالكين۔ تو میں ضرور ہلاک ہونے والوں میں سے ہوتا۔