الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 55

ضميمه حقيقة الوحى ۵۵ الاستفتاء هذه ملتنا نرى كلّ آن یہ ہمارا دین ہے جس کے پھل ہم ہر آن دیکھ ثمارها، ونشاهد أنوارها ۔ وأما رہے اور اس کے انوار کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور جو دين النصارى فليس إلَّا كدارٍ نصاری کا دین ہے تو (حقیقتا ) وہ ایک ایسے گھر کی يخوف الناس دجاها، ويعمى طرح ہے جس کی تاریکی لوگوں کو خوفزدہ کرتی العيون دخاها ، وهل لها آية ہے۔ اور اس کا اندھیرا آنکھوں کو اندھا کر دیتا لنراها؟ ووالله لو لم يكن دين ہے۔ کیا اس ( عیسائیت ) میں کوئی نشان ہے جسے الإسلام لتعسرت معرفة ربّ ہم دیکھ سکیں اور اللہ کی قسم اگر دین اسلام نہ ہوتا تو العالمين۔ فما ظهرت خبيئة رب العالمين کی معرفت دشوار ہو جاتی۔ پوشیدہ المعارف إلا بهذا الدين۔ وإنه معارف صرف اس دین اسلام سے سے ظہور میں آئے کشجرة تؤتي أكلها كل حين، ہیں اور یہ دین ایک ایسے درخت کی طرح ہے جو اپنے ويدعو الأكلين الذين هم من پھل ہر وقت دیتا ہے اور ان کھانے والوں کو دعوت العاقلين۔ وأمّا دين عيسى فما هو دیتا ہے جو عقلمندوں میں سے ہیں۔ اور جو عیسائی إلَّا كشجرة اجتنت من الأرض، مذہب ہے تو وہ ایک ایسے درخت کی طرح ہے وأزالت الصراصر قرارها، ثم جسے زمین سے اکھاڑ دیا گیا ہو۔ اور تیز و تند اللصوص ما أبقوا آثارها ۔ وليس آندھیوں نے اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیا ہو اور في دينهم إلا قصص منقولة، ومن پھر چور اچکوں نے اس کے آثار باقی نہ رہنے المشاهدات معزولة۔ ومن دیئے ہوں۔ اور ان کے مذہب میں صرف منقولی المعلوم أن القصص المجردة لا قصے ہیں اور مشاہدات کا فقدان ہے۔ اور یہ بات تهب اليقين، وليس فيها قوة ظاہر ہے کہ محض قصے یقین عطا نہیں کرتے اور تجذب إلى ربّ العالمین۔ ان میں وہ قوت نہیں ہوتی جو رب العالمین کی وإنما الجذب في الآيات طرف کھینچ کر لائے۔ (قوت جذب) صرف المشهودة، والكرامات الموجودة آیات مشہودہ اور کرامات موجودہ میں ہوتی ہے۔