الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 54
ضمیمه حقيقة الوحي ۵۴ الاستفتاء ووالله لو اجتمع أولهم اور اللہ کی قسم ! اگر ان کے پہلے اور پچھلے اور ان وآخرهم، وخواصهم و عوامهم، کے خواص اور عوام اور ان کے مرد اور ان کی عورتیں ورجالهم ونساؤهم ما استطاعوا اکٹھے ہو جائیں تو بھی ویسا ایک نشان نہیں پیش کر أن يأتوا بآية كما نعطى من ربّنا سکتے جیسے نشان ہمارے رب نے ہمیں عطا فرمائے ولو كان بعضهم لبعض ظهیرا ہیں۔خواہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔اور اس ذالك بأنهم على الباطل، ونحن کی وجہ یہ ہے کہ وہ باطل پر ہیں اور ہم حق پر۔اور على الحق، وإلهنا حى، وإلههم ہمارا خدا زندہ اور ان کا خدا مردہ ہے اور وہ ان کی شیخ ميت، فلا يسمع شهيقهم ولا زفيرا و پکار نہیں سنتا۔اور ہمارا نبی وہ نبی ہے جس کی سچائی وإن لنا نبي نری آیات صدقہ فی کے نشان ہم اپنے اس زمانے میں دیکھ رہے ہیں۔هذا الزمن، وليس في أيديهم إلَّا اور ان (عیسائیوں ) کے ہاتھ میں گندگی کے ڈھیر پر خضراء الدمن، فأين تفرون من اُگے ہوئے سبزہ کے سوا کچھ نہیں۔پس اے غافلو! حصن الأمن أيها الغافلون؟ تم امن کے قلعہ سے کس طرف بھاگ رہے ہو۔وإن نبينا خاتم الأنبياء، لا نبی ہمارا نبی خاتم الانبیاء ہے آپ کے بعد کوئی نبی بعده، إلَّا الذي ينور بنوره، ويكون نہیں سوائے اس کے جو آپ کے نور سے منور کیا ظهوره ظل ظهوره فالوحى لنا حق گیا ہو اور اس کا ظہور آپ کے ظہور کاظل ہو۔پس وملك بعد الاتباع، وهو ضالة اتباع کے بعد وحی کا ملنا ہمارا حق اور ہماری ملکیت فطرتنا وجدناه من هذا النبي المطاع ہے اور وہ ہماری فطرت کی گمشدہ متاع ہے۔جسے فأُعطينا مجانًا من غير الاشتراء۔ہم نے اس نبی مطاع ( کے فیض ) سے پایا ہے اس والمؤمن الكامل هو الذي رُزق طرح وہ ہمیں خریدے بغیر مفت دی گئی۔کامل من هذه النعمة على سبيل الموهبة، مؤمن وہ ہے جسے یہ نعمت ( وحی ) عطیہ کے طور پر والذي لم يُرزق منه شيئًا يُخاف عطا کی گئی اور جسے اس میں سے کچھ بھی حصہ نہ دیا (۲۳) گیا اس کے برے انجام کا خدشہ ہے۔عليه الخاتمة۔سوء