الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 50
ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء وإن رأيتم آياتي كآيات خلث في لیکن اگر تم میرے نشانوں کو ان نشانوں کی طرح پاؤ السابقين، فمن مقتضى الإيمان جو سابقین میں گزر چکے ہیں تو پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ تم مجھے قبول کرو اور ان (نشانات) سے اعراض أن تقبلونى ولا تمروا عليها معرضين۔أتعجبون من رحمة الله وقد جاءت أيامها؟ وترون کرتے ہوئے گزر نہ جاؤ۔کیا تم اللہ کی رحمت پر تعجب کرتے ہو حالانکہ اس (رحمت) کا زمانہ آ گیا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ ملت (اسلامیہ ) کا گوشت گھل گیا الملة ذاب لحمها وظهرت ہے اور اس کی ہڈیاں ظاہر ہو چکی ہیں۔اس کے دشمن عظامها، وكبر أعداؤها وحقر بڑے بنا دیئے گئے ہیں اور اس کے خادم چھوٹے۔خدامها۔ما لكم ترون آی الله ثم تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے نشانوں کو دیکھتے ہو پھر تنكرون؟ وترون شمس الحق انکار کر دیتے ہو۔اور اپنی آنکھوں کے سامنے آفتاب أمام أعينكم ثم لا تستيقنون؟ صداقت دیکھتے ہو لیکن پھر بھی یقین نہیں کرتے۔أيها الناس۔تمت عليكم حجة اے لوگو! اللہ کی حجت تم پر تمام ہو چکی پھر کس طرف الله فإلام تفرون؟ وإن آياته من بھاگ رہے ہو؟ اور یقیناً اس کے نشانات ہرطرف كل جهة ظهرت، والإسلام نزل سے ظاہر ہو چکے ہیں۔اور اسلام غربت کی گہری غار فـي غـار الغربة و أوامره تعطلت میں اتر گیا ہے اور اس کے احکامات تعطل کا شکار ہو وكل آفة عليه نزلت و کلّ گئے ہیں اور ہر آفت اور افتاد اس پر آن پڑی ہے اور ہر مصيبة كشرت له أنيابها ، وكل مصیبت نے اس پر حملہ ) کے لئے اپنی کچلیاں ظاہر نحوسة فتح علیه بابها، والألفُ کر دی ہیں۔اور ہر نحوست نے اس پر اپنا دروازہ کھول السادس الذي وعد فيه ظهور دیا ہے۔چھٹاہزار جس میں ظہور مسیح کا وعدہ کیا گیا تھا وہ المسيح قد انقضى، فما زعمکم گزر چکا ہے پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ کیا اللہ نے اپنے أ أخلف الله وعده أو وفى؟ وعده کی خلاف ورزی کی ہے یا اسے پورا کیا ہے؟