الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 49

ضميمه حقيقة الوحى ۴۹ الاستفتاء انية، عيسات وأنور وجه الملة، وأكسر اور ملت کا چہرہ روشن کروں ، صلیب کو توڑوں ، الصليب وأُطفئ نار النصرانية، عیسائیت کی آگ بجھاؤں اور مخلوق کے بہترین فرد وأقيم سنة خير البرية، والأصلح (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سنت قائم کروں اور جو ما فَسَد، وأروج ما ما كَسَدَ۔ وأنا بگاڑ پیدا ہو گیا ہے اس کی اصلاح کروں اور جن (اقدار کی) کساد بازاری ہے انہیں رائج کروں اور المسيح الموعود والمهدى المعهود۔ من الله على بالوحى والإلهام، وكـلـمـنـي كما كلّم برسله الكرام، وشهد على یہ کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں ۔ اللہ نے مجھ پر وحی والہام کا احسان کیا اور اس نے میرے ساتھ اسی طرح کلام کیا جیسے اس نے مرسلین کرام سے کلام فرمایا تھا۔ اور ایسے نشانوں سے میری سچائی صدقی بآیات تشاهدونها، وأرى کی شہادت دی جن کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔ اور وجهى بأنوار تعرفونها۔ ولا أقول ایسے انوار سے میری رونمائی کی جنہیں تم پہچانتے لكم أن تقبلونى من غير برھان ہو۔ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم کسی دلیل کے بغیر و آمنوا بي من غير سلطان، بل مجھے قبول کرو اور بغیر کسی واضح دلیل کے مجھ پر ایمان أنادى بينكم أن تقوموا لله لے آؤ بلکہ میں تمہارے درمیان یہ منادی کر رہا مقسطين، ثم انظروا إلى ما أنزل ہوں کہ تم انصاف کرتے ہوئے اللہ کی خاطر کھڑے الله لي من الآيات والبراهين ہو جاؤ پھر جو نشانات اور دلائل اور شہادتیں اللہ نے والشهادات۔ میرے لئے نازل فرمائے ہیں ان پر نظر ڈالو۔ فإن لم تجدوا آياتي كمثل ما اے منکروں کے گروہ! اگر تم میرے نشانوں کو جرت عادة الله في الصادقين، و خلت راستبازوں میں اللہ کی عادت جاریہ اور گذشتہ ۲۱ سنته في النبيين الأولين، فردّونی انبیاء میں اس کی گزری ہوئی سنت کے مطابق نہ ولا تقبلوني يا معشر المنكرين پاؤ تو بیشک مجھے رڈ کر دو اور مجھے قبول نہ کرو۔