الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 43

ضميمه حقيقة الوحى ۴۳ الاستفتاء فنصره الله نصرًا بعد نصر من لیکن اللہ نے اس کی زمین سے اور بلند آسمانوں الأرض والسماوات العلى، سے مدد پر مدد فرمائی اور ج په اور جب اس ۔ نے اللہ سے واستفتح فخاب كل من استعلى فتح مانگی تو ہر متکبر نا کام رمتکبر نا کام ہو گیا ۔ اور اللہ نے اس کو ورزقه الله الابتهال والإقبال عليه ہر - ر مصیبت کے وقت اپنے حضور گڑ گڑانے اور توجہ عند كل مصيبة، فاستجاب إذا کرنے کی توفیق بخشی ۔ چنانچہ جب اس نے دعا مانگی تو اس نے اسے قبولیت بخشی اور اس کی دعا میں اثر دعا، وجعل أثرًا في دعوته، ومن دعا عليه فقد هوى۔ فطعن كثير من الناس بدعوته، فذاقوا موتا أدهى، وقد كانوا يتمنون يوم منيته ويقولون أخْبَرَنا الله بموته رکھ دیا۔ اور جس نے بھی اس کے خلاف دعا کی وہ نابود ہو گیا۔ پس اس کی دعا سے بہت سے لوگ طاعون کا نشانہ بنے اور انہوں نے ہولناک موت کا مزہ چکھا جبکہ وہ اس بندہ کی موت کے دن کی تمنا رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں وحی کے ذریعہ وأوحى۔ إن في ذالك لآية اس کی موت کی خبر دی ہے۔ یقیناً اس میں عقلمندوں لأولى النهى۔ وجعل الله داره کے لئے عظیم الشان نشان ہے۔ اور اللہ نے اس حَرمًا آمنا من دخلها حفظ من کے گھر کو امن والا حرم بنا دیا جو اس میں داخل ہوا الطاعون وما مَسَّه شيء من وہ طاعون سے محفوظ ہو گیا اور اسے ذرہ سی بھی الأذى، ويتخطف الناس من تکلیف نہ پہنچی جبکہ اس کے گرد و پیش کے لوگ حولها ۔ إن في ذالك يرى يد اچک لئے جاتے ہیں۔ یقیناً اس میں ہر وہ شخص جس القدرة من كان له عین تری کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہے قدرت کا ہاتھ دیکھتا وأعطاه أعمالا صالحات مع ہے۔ اور اس نے اسے ابرار کے فائدہ کے لئے ثمراتها لنفع الأبرار، كأنها اعمال صالحہ مع ان کے ثمرات کے عطا کئے گویا وہ ایسے جنات تجرى من تحتها الأنهار باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہہ رہی ہیں ۔