الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 42

۱۸ ضمیمه حقيقة الوحي ۴۲ الاستفتاء وليس لدين أن ينافس معه بهذه اور کسی دین کی مجال نہیں کہ وہ ان صفات عالیہ میں الصفات العُليا۔ولا يحطّ عن اس کے ساتھ مقابلہ کر سکے اور اس روشن ترین دین إنسان ثقل حجابه، ولا يوصل کے علاوہ کوئی دین نہیں جو انسان سے اس کے إلى قصر الله و بابه إِلَّا هذا الدين پردوں کا بوجھا تا ر دے اور اسے اللہ کے محل اور اس جلی، و من شک فی هذه کے دروازہ تک پہنچائے۔اور جو اسلام کی ان خوبیوں میں شک کرے وہ نابینا محض ہے۔اور لوگوں نے فليس هو إلَّا أعمى۔وقد اخترط اس بندہ پر ایک ہی نیام سے اپنی تلوار میں سونت الناس سيوفهم على هذا العبد من لیں لیکن ( پھر یوں ہوا کہ ) مخلوق کے رب نے بھی عمدٍ واحدٍ، فَتَجالَدَهم رَبُّ ان کا مقابلہ کیا۔پس بعض کا اس نے سر قلم کیا۔الورى۔فقط بعضهم، وأخزى بعض کو رسوا کیا اور بعض کو اپنی وعید کے مطابق اُس بعضهم، ومهل بعضهم تحت دن تک جو ان کے لئے مقدر کیا گیا تھا مہلت دی۔وعيده إلى يوم قدر وقضى اور انہوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ اس سے ظلم اور کھا وإنهم آلـوا أن لا يعاملوا به إلَّا جھوٹ کے سوا کوئی سلوک روا نہ رکھیں گے۔ان ظلمًا وزورا، وتحامت زمرھم ( مخالفوں) کے گروہ تقویٰ کی راہوں سے ہٹ گئے۔عن طرق التقوى، وبعدوا عن اور سچائی کے راستے سے دور جا پڑے گویا اس میں منهج الحق كأن أسدا يفترس فيه کوئی شیر ہے جو چیر پھاڑ کر رہا ہے۔یا سانپ ہے جو أو يلدغ ثعبان أو تَعِنُّ آفةٌ أُخرى ڈس رہا ہے۔یا کوئی دوسری آفت در پیش ہے۔وودوا أن يُقتل هذا العبد أو اور انہوں نے چاہا کہ اس بندے کو قتل کر دیا جائے ، یا يسجن أو ينفى من الأرض، ليقولوا قید کر دیا جائے یا ملک بدر کر دیا جائے تا کہ وہ بعد میں یہ بعده إنه كان كاذبا فأهلكه کر سکیں کہ یہ شخص جھوٹا تھا، اس لئے اللہ نے اسے ہلاک الله وأردى أو أهان و أخزاى ؛ اور نیست و نابود کر دیا یا اس نے اسے ذلیل ورسوا کر دیا