الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 41

ضمیمه حقيقة الوحي ام الاستفتاء وأي شيءٍ دين لا يـضـىء قلبا اور وہ دین کیا دین ہے جس کا نور کسی دل کو منور نہیں کرتا نوره، ولا يُسَكِّنُ الغلیل وجورُه ، اور جس کا پینا پیاس کو تسکین نہیں دیتا۔اور اس کا سینہ ولا يتغلغل في الصُّدور صدورہ ، میں داخل ہونا کوئی تأثیر پیدا نہیں کرتا اور اس کی کسی ولا يثني عليه بوصف يتم ایسے وصف سے تعریف نہیں کی جاتی جس کا ظہور اتمام الحجّة ظهوره ؟ وأى شيءٍ حجت کرے۔اور وہ دین ہی کیا ہے جو مومن اور دين لا يميز المؤمن من الذی ایسے شخص کے درمیان تمیز نہ کرے جس نے کفر اور كفر وأبى، ومن دخله يكون نافرمانی کو اختیار کیا اور اس میں داخل ہونے والا اس كمثل من خرج منه، والفرق دین سے نکلنے والے جیسا ہو، اور ان کے درمیان کوئی بينهما لا يُرى؟ وأى شيءٍ دين لا فرق نظر نہ آئے۔اور وہ دین کس کام کا ہے جو کسی زندہ يميت حيا من هواه، ولا يُحيى شخص کو اس کی خواہشات کے لحاظ سے نہ مارے اور نہ بحياة أخرى؟ ومن كان الله كان اسے دوسری زندگی عطا کرے۔اور جوکوئی اللہ کا الله له۔۔کذالک خلتُ سُنته فی ہو جاتا ہے تو اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔یہی دستور اس کا أمم أولى۔والنبي الذي ليس فيه پہلی امتوں میں جاری رہا ہے۔اور وہ نبی جس میں صفة الإفاضة۔۔لا يقوم دليل على افاضہ کی صفت نہ ہو اس کی سچائی پر کوئی دلیل قائم نہیں صدقه، ولا يعرفه من أتى، وليس ہو سکتی اور نہ ہی اس کے پاس آنے والا اس کو شناخت مثله إلَّا كمثل راعٍ لا يهُشُ علی کر سکتا ہے۔اور اس کی مثال ایسے چرواہے کی طرح ہے غنمه ولا يسقى ويبعدها عن جو اپنی بھیڑ بکریوں پر پتے نہیں جھاڑتا اور نہ انہیں پانی پلاتا ہے اور انہیں پانی اور چراگاہ سے دور رکھتا ہے۔الماء والمرعى۔اور تم جانتے ہو کہ ہمارا دین ایک زندہ دین وتعلمون أن ديننا دين حى، ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مُردے زندہ ونبينا يُحيي الموتى، وأنه جاء کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے كصيب من السماء ببركات عُظمی برسنے والی بارش کی طرح عظیم برکات لے کر آئے۔