الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 1
ضميمه حقيقة الوحى الاستفتاء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا ، بن مانگے دینے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ نَحْمَدُ اللَّهَ العَلَى العَظِيمِ هم بزرگ و برتر اللہ کی ستائش کرتے اور اس کے وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ۔ رسول پر درود بھیجتے ہیں۔ رَبَّنَا إِنَّنَا جِئْنَاكَ مَظْلُومِینَ فَافِرُق اے ہمارے ربّ! ہم تیرے حضور مظلوم بن کر آئے بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ہیں سو تو ہمارے اور ظالم قوم کے درمیان فرق فرما۔ ------ آمین ------ ------ آمین ------ أما بعد ۔۔ فاعلموا - رحمكم بعد ازیں، اللہ تم پر رحم فرمائے ، جان لو کہ میں نے الله ـ أني قسمت هذه الرسالة اس رسالے کو دو حصوں اور دو بابوں میں تقسیم کیا ہے۔ عَلَى قِسمين، وبوبتها على بابَين؛ والغرض منه إتمام الحجة اور اس سے غرض معاندین پر اتمام حجت کرنا ہے۔ على أهل العناد، وكتبتها بماء اور میں نے اسے آنسووں کے پانی اور دل کی الدموع ونار الفؤاد، واختتمتها حرارت سے تحریر کیا ہے اور بندوں کے رب پر على خاتمة متوكلا على ربّ العباد الْبَابُ الأوّل في الاستفتاء ☆ تو کل کرتے ہوئے اسے ایک خاتمہ پر ختم کیا ہے۔ استفتاء کا پہلا باب یا علماء الإسلام، وفقهاء ملة اے اسلام کے علماء اور مخلوق میں سے بہترین وجود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ملت کے فقہاء! مجھے ایک خير الأنام، أفتوني في رجل ادعى ایسے شخص کے بارہ میں فتوی دو جس نے یہ دعوی کیا ہے کہ أنه من الله الكريم، وهو يُؤمن وہ خدائے کریم کی طرف سے ہے اور وہ اللہ کی کتاب بكتاب الله ورسوله الرؤوف الرحیم اور اُس کے شفیق اور مہربان رسول پر ایمان لاتا ہے۔ قد الحقنا هذه الرسالة بكتابنا حقيقة الوحى ہم نے اس رسالہ کو اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ساتھ شامل کیا ہے اور اسے اس و جعلناها له ضميمة واشعنا بعضها عليحدةً ۔ کتاب کا ضمیمہ بنایا ہے اور ہم نے اس کے کچھ نسخے الگ بھی شائع کئے ہیں ۔