الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 35

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۵ الاستفتاء وما جمع الله لعبده من أفواج اور ان افواج کو بھی دیکھتا جو اللہ نے اپنے بندہ کے لئے جمع کی ہیں۔جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور ان تحائف اور اموال کو دیکھتا جو دور و نزدیک يريدون مرضاة الله، وما يأتيه من التحائف والأموال من ديار قريبة وبعيدة، لقلت ما هذا إِلَّا فضل کے ممالک سے اس کے پاس آتے ہیں۔تو تو ضرور یہ پکار اٹھتا کہ یہ سب کچھ محض اللہ کا فضل اور من الله وتأييد ونُصرة وإكرام اس کی تائید و نصرت اور اس کی طرف سے عزت افزائی اور اس کی بڑائی کے اظہار کے طور پر ہے۔وإجلال ثم كفر به الناس مع رؤية هذه پھر ان تائیدات اور نشانات کو دیکھنے کے باوجود التأييدات والآيات، ومكروا كُل لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ہر طرح کی تدبیریں مكر ليصيبه بعض المكروهات کیں تا کہ اسے گزند پہنچے لیکن اللہ نے ہر شریر دجال فتلقاه الله بسلام و عصمة من اور ہر اس شخص سے جو جنگ وجدال میں اس کے كل شرير دجال ومِن كُلّ مَن بارَزَ مقابلہ میں آنے والا تھا ، عصمت اور سلامتی دیتے للحرب والنضال۔كلما أرادوا ہوئے اس کی پذیرائی کی۔جب بھی انہوں نے اس تكدر عيشه بدل الله همومه کی زندگی کو مکدر کرنا چاہا تو اللہ نے اس کے غموں کو بالمسرات، وطابت حياته أزيد من مسرتوں میں بدل دیا اور نعمتیں عطا کرنے والے اللہ الأول بحكم الله واهب العطیات کے حکم سے اس کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ وأرادوا أن يُنشَر معایبه فأُثنِی علیه خوشگوار ہوگئی اور انہوں نے چاہا کہ اس کے عیوب ۱۵ بالمحاسن والحسنات، وأرادوا نشر ہوں تو محاسن اور خوبیوں کے ساتھ اس کی له معيشة ضنكا فأتاه من كلّ ستائش کی گئی۔اور انہوں نے اس کے لئے تنگئی طرف هدايا وتحائف والأموال معیشت چاہی تو پھلوں کے گرنے کی طرح ہر طرف التي تساقط عليه كالثمرات سے اس کے پاس تحفے تحائف اور اموال آئے۔