الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 35
ضميمه حقيقة الوحي ۳۵ الاستفتاء وما جمع الله لعبده من أفواج اور ان افواج کو بھی دیکھتا جو اللہ نے اپنے بندہ کے يريدون مرضاة الله، وما يأتيه من لئے جمع کی ہیں۔ جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں التحائف والأموال من ديار قريبة اور ان تحائف اور اموال کو دیکھتا جو دور و نزدیک کے ممالک سے اس کے پاس آتے ہیں۔ تو تُو وبعيدة، لقلت ما هذا إلَّا فضل ضرور یہ پکار اٹھتا کہ یہ سب کچھ محض اللہ کا فضل اور من الله وتأييد ونصرة وإكرام اس کی تائید و نصرت اور اس کا رت اور اس کی طرف سے عزت وإجلال۔ افزائی اور اس کی بڑائی کے اظہار کے طور پر ہے۔ ثم كفر به الناس مع رؤية هذه پھر ان تائیدات اور نشانات کو دیکھنے کے باوجود التأييدات والآيات، ومكروا كُلّ لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ہر طرح کی تدبیریں مكر ليصيبه بعض المكروهات، کیں تا کہ اسے گزند پہنچے لیکن اللہ نے ہر شریر دجال فتلقاه الله بسلام و عصمة من اور ہر اس شخص سے جو جنگ وجدال میں اس کے ** كل شرير دجال، ومن كلّ مَن بَارَزَ مقابلہ میں آنے والا تھا، عصمت اور سلامتی دیتے للحرب والنضال۔ كلما أرادوا ہوئے اس کی پذیرائی کی ۔ جب بھی انہوں نے اس تكدر عيشه بدل الله همومه کی زندگی کو مکدر کرنا چاہا تو اللہ نے اس کے غموں کو بالمسرات، وطابت حياته أزيد من مسرتوں میں بدل دیا اور نعمتیں عطا کرنے والے اللہ الأول بحكم الله واهب العطیات کے حکم سے اس کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ وأرادوا أن يُنشر معایبہ فاثنی علیه خوشگوار ہوگئی اور انہوں نے چاہا کہ اس کے عیوب ۱۵ بالمحاسن والحسنات، وأرادوا نشر ہوں تو محاسن اور خوبیوں کے ساتھ اس کی له معيشة ضنكا فأتاه من كل ستائش کی گئی۔ اور انہوں نے اس کے لئے تنگی طرف هدايا وتحائف والأموال و معیشت چاہی تو پھلوں کے گرنے کی طرح ہر طرف التي تساقط عليه كالثمرات سے اس کے پاس تحفے تحائف اور اموال آئے۔