الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 34

ضمیمه حقيقة الوحي ۳۴ الاستفتاء فتعلمون ما صنع الله فی ذالک پھر تم جانتے ہو۔کہ اس معرکہ میں اور انجام کار اللہ البأس في آخر الأمر والمآل وكلّ نے جو فیصلہ فرمایا مصائب کے وقت اللہ کے اپنے ما ذكرنا من نعم الله وإحسانه علی اس بندہ پر جن انعامات اور احسانات کا ہم نے هذا العبد عند الشدائد أشيع ذکر کیا ہے۔وہ سب انعام خدائے ذوالجلال کے كلها قبل ظهور تلک النعم اطلاع دینے پر قبل از ظہور شائع کر دیے گئے تھے۔| بإعلام الله ذی الجلال۔فهل پس کیا تم آسمان کے نیچے مفتریوں میں اس کی نظیر تعلمون تحت السماء نظيره فی جانتے ہو؟ (اگر علم ہے ) تو اسے پیش کرو اور قیل وقال المفترين۔۔فأتوا به واتركوا کو چھوڑ دو اور بلاشبہ لوگوں نے اس پر ہر طرح کے القيل والقال۔وإن الناس قد ظلم ڈھائے اور اس پر جور و جفا کیا اور انہوں نے اسے ظلموه كل ظلم و جاروا عليه، پہاڑوں کی طرح گھیر لیا تب اس کے پاس اللہ کی وأحاطوه كالجبال، فأتاه ظفر طرف سے فتح مبین آئی اور اونچوں کو نیچا کر دیا اور مبين من عند الله، فجعل العالی جو تیر انہوں نے چلائے تھے انہیں انہیں پر الٹا دیا سافلا وقلب عليهم ما رموا گیا۔پس وہ ان کی کھوپڑی اور گدی پر لگے اور اللہ فأصاب القِحْفَ والقَذال، وأرى نے اپنی مدد کامل طور پر دکھائی۔اور کمینے لوگ خوب نصره على وجه الكمال۔وجاء زَمَعُ تیاری کے ساتھ اس کے دشمنوں کی مدد کے لئے الناس لينصر أعداءه بشد الرحال آئے۔پس اللہ کے حکم سے انہیں ہزیمت اٹھانا فهزموا بأمر الله، وكانت كلمة الله پڑی اور اللہ کا بول بالا رہا۔اور جن پر ان کا تکیہ هي العليا، وضلّ عنهم ما كان عليه تھا وہ سب اکارت گئے۔اور اس نے (یعنی اللہ الا تكال۔و رزق عبده ظفرًا ونصرًا نے اپنے بندہ کی ہر معاملہ میں اور ہر جہت سے وفتحا في سائر الأشياء وسائر الجهات اور ہر حالت میں کامیابی اور نصرت فرمائی اور فتح عطا وسائر الأحوال، ورزق بھاگا کی۔اور اسے اس کے رب فعال کی طرف سے وهيبة من ربه الفعال۔ولو ترى شوکت و بیت عطا کی گئی۔اگر تو مبایعین کی ان أفواجًا مبايعين نشروا في الأرض، فوجوں کو دیکھتا جو تمام روئے زمین پر پھیل گئی ہیں