الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 33

ضميمه حقيقة الوحي ۳۳ الاستفتاء وكل من دعا علی عبدہ ردّ اور جس نے اس کے بندے کے لئے بددعا کی عليه دعاءه، وَمَا دُعُوا الكَفِرِينَ إِلَّا تو اللہ نے اس کی بد دعا اسی پر الٹا دی ۔ اور کافروں فِي ضَلَلٍ ! کی دعا رائیگاں ہی جاتی ہے۔ وأهلك أكابرهم عند المباهلة اور مباہلہ کے وقت کمزوروں پر مہربانی کرتے متعطفا على الضَّعَفة، حميمًا ہوئے اور حقیقت حال سے نا واقف لوگوں پر شفقت بالذين لا يعلمون حقيقة الحال کرتے ہوئے اُس (اللہ ) نے ان کے سرداروں کو وكذالك دفع الشر وقضى ہلاک کیا۔ اور اس طرح اس نے شر کو دور کیا اور معاملہ الأمر، فما بقى أحد من الذين نپٹا دیا اور یوں ان میں سے کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا كان لهم للمباهلة مجال۔ وأراهم جسے مباہلہ کرنے کی مجال ہو اور اللہ نے انہیں وہ نشان الله آيات ما أرى آباء هم دکھائے جو ان کے آباء اجداد کو نہیں دکھائے گئے لتستبين سبل المجرمین تھے۔ تا مجرموں کی راہیں کھل جائیں اور تا اللہ ہدایت ۱۴ وليفرق الله بين المهتدی پانے والے اور گمراہ کے درمیان فرق کر دے اور اللہ والضال۔ وأبطل الله دعاوی نے ان کے علم اور پرہیزگاری اور ان کی علمهم وورعهم ونسكهم قربانی، عبادت اور تقویٰ کے دعاوی کو باطل کر دیا۔ وعبادتهم وتقواهم، وأرى الخلق اور اعمال میں سے جو وہ چھپاتے ہیں وہ اس نے ما ستروا من الأعمال، ونزع لوگوں پر ظاہر کر دیا اور ان کا لباس اتار دیا اس طرح ثيابهم عنهم فظهر الهزال۔ ان کا دبلا پن ظاہر ہو گیا۔ والذين خافوا الله ووجلت اور وہ لوگ جو اللہ سے ڈرے اور ان کے دل لرزے، اللہ نے انہیں امان دی پس وہ وہال سے بچائے گئے۔ اور بہت سے ایسے زیادتی کرنے قلوبهم آمنهم الله فعصموا من الوبال۔ وكم من معتد جر هذا والے ہیں جو اس بندہ کو حکام کے پاس گھسیٹ کر العبد إلى الحكام، ليسجن أو لے گئے تا کہ اسے قید میں ڈالا جائے یا اسے تختہ يصلب أو ينفى من الأرض ، دار پر لٹکایا جائے یا اسے جلاوطن کر دیا جائے۔ ا المؤمن : ۵۱