الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 32
ضميمه حقيقة الوحي ۳۲ الاستفتاء وإذا أصابه من عدوّ نوعُ مَعَرّة، اور جب بھی اسے کسی دشمن کی طرف سے کوئی تکلیف فرجها الله عنه كلّ مرّة۔ ونال آئی تو ہر بارا سے اللہ نے اس سے دور کر دیا اور فتحا في كل بأس، حتى انتهى اس نے ہر معرکہ میں فتح پائی حتی کہ وہ وقت آگیا إلى وقت أدركه عون الله کہ اسے اللہ کی مدد پہنچی اور حق واضح ہو گیا اور شک وحصحص الحق ورفع الالتباس جاتا رہا اور لوگوں نے فوج در فوج اس کی طرف ورجع إليه أفواج من الناس رجوع کیا اور جن لوگوں نے یہ پوچھا کہ یہ تجھے والذين قالوا من أين لک ذالک کہاں سے حاصل ہوا تو اللہ نے انہیں دکھا دیا کہ یہ أراهم الله أنه من عنده، والذين سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ اور جنہوں نے أرادوا خزيه أراهم الله خزیا اس کی رسوائی چاہی اللہ نے انہیں رسوائی اور تباہی وتبابًا، ووضع عليهم الفأس دکھا دی اور ان پر تبر رکھ دیا۔ پھر جب بھی انہوں فضربوا من أيدى الله كلما رفعوا نے سر اٹھایا تو اللہ کے ہاتھوں ان پر وہ تبر ماری گئی۔ الرأس۔ ذالك لتكون لهم قلوب ایسا اس لئے ہوا تا انہیں ایسے دل میسر ہوں جن کے يعقلون بها، وآذان يسمعون بها ذریعہ وہ سمجھ سکیں اور ایسے کان ہوں جن سے وہ سن ولعلهم يستيقظون أو تحد سکیں۔ اور تاکہ وہ بیدار ہوں یا ( ان کے ) حواس الحواس، وكأين منهم باهلوا تیز ہوں ۔ ان میں سے کتنے ہی ہیں جنہوں نے مباہلہ فضربت عليهم الذلة، أو أهلكوا كيا جس کے نتیجہ میں ان پر ذلت کی مار ماری گئی۔ أو قطع نسلهم، ليوقظهم الله یا وه ہلاک کئے گئے۔ یا ان کی نسل منقطع کر دی گئی من النعاس۔ تا کہ اللہ انہیں غفلت کی نیند سے بیدار کرے۔ ودافع الله عن عبده كل ما جب انہوں نے کوئی سازش کی تو اللہ نے اپنے مكروا، ولو كان مكرهم بنده کا دفاع کیا اگر چہ ان کی ( وہ ) تدبیر پہاڑوں يزيل الجبال، وأنزل علی کل کو ( ان کی جگہ ) سے ٹلا دینے والی تھی ۔ اور مگار شيئًا من النكال اللہ نے ہر سازشی پر کوئی نہ کوئی عذاب نازل فرمایا