الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 27
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۷ الاستفتاء فهو يدعو الزمان والزمان وہ زمانے کو اور زمانہ اسے پکار رہا ہے۔پھر وہ لوگ جو يدعوه۔ثم الذين اعتدوا يمرون حد سے بڑھ گئے اور اس کی تحقیر کے لئے اپنی حرص کو منكرين، ويشحذون إلى تحقیره تیز کرتے ہیں اور اس کی طرف استہزاء کرتے ہوئے الحرص، وينظرون إليه مستهزئين دیکھتے ہیں۔اور وہ مسیح موعود ہے اور ہدایت کے هو المسيح الموعود، وهو كاسر واضح دلائل سے صلیب کو توڑنے والا ہے جیسے گزشتہ الصليب ببينات من الهدى، كما مسیح ناصری کو صلیب نے توڑ ڈالا تھا۔اب اسلام کی كان الصليب كاسر مسيح خلا۔شعاعوں کے لئے نصف النہار کا وقت ہے۔اور وہ فالآن وقت الظهيرة لأشعة الإسلام، مسیح موعود سب سے زیادہ علم رکھنے والے اللہ کے حکم وأتى المسيح الموعود مُهجرًا بأمر الله العلام، ليظهر الله ضياء ه التام على الأنام بعد الظلام۔وقد ظهر صدقه كالبحر إذا ماج، والسيل إذا سے عین نصف النہار کے وقت آیا تا اللہ تاریکی کے بعد مخلوق پر اس کی پوری روشنی ظاہر فرمائے چنانچہ اس کا صدق سمندر کی طرح موجزن ہے اور سیلاب اور یہ من کی طرح تند و تیز ہے۔اور یہ منصو بے رحمان خدا کی هاج۔وكانت هذه الخُطة مقدّرا له في آخر الزمان من الله الرحمن، طرف سے اس آخری زمانے میں اس کے لئے مقدر تھے۔پس جیسا کہ محسن خدا نے مقدر کیا تھاوہ ظہور میں فظهر كما قدر ذو الامتنان۔وإنّه نظر إلى البلاد الهندية فوجدها مستحقةً آگئے اور اللہ نے ملک ہند پر اپنی نظر ڈالی اور اسے لـمـقـر هذه الخلافة، لأنها كانت اس خلافت کی قرار گاہ کا مستحق پایا کیونکہ یہ (ملک ) مَهْبَطَ الآدم الأول في بدء الخليقة ابتدائے آفرینش میں آدم اول کے اترنے کی جگہ تھی کہیں إنا عرفنا آدم ههنا باللام، فإنه استعمل میں ہم نے یہاں لفظ آدم کو ال “ کے ساتھ معرفہ کیا ہے لیکن كالنكرة في هذا المقام، وهو ليس عندى من در اصل وہ اس جگہ نکرہ کی طرح ہی استعمال کیا گیا ہے اور لفظ آدم الألفاظ العبرية۔نعم يمكن توارد اللغتين وهو میرے نزدیک عبرانی الفاظ میں سے نہیں۔ہاں دونوں زبانوں میں كثير في تلك اللسان والعربية، وقد بينا في توارد ممکن ہے جو اس ( عبرانی ) اور عربی میں کثرت سے موجود ہے كتابنا منن الرحمن أن العربية أُمُّ الألسنة، وكل اور ہم نے من الرحمن میں کھول کر بیان کیا ہے کہ عربی اُم الالسنة ہے اور ہر زبان مرورزمانہ کے ساتھ ساتھ اس سے نکلی ہے۔منہ ☆ لسانِ خَرَجَ۔منه عند مرور الزمان۔منه