الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 27

ضميمه حقيقة الوحي ۲۷ الاستفتاء فهو يدعو الزمان والزمان وہ زمانے کو اور زمانہ اسے پکار رہا ہے۔ پھر وہ لوگ جو يدعوه ۔ ثم الذين اعتدوا يمرون حد سے بڑھ گئے اور اس کی تحقیر کے لئے اپنی حرص کو منكرين، ويشحذون إلى تحقيره تیز کرتے ہیں اور اس کی طرف استہزاء کرتے ہوئے الحرصَ، وينظرون إليه مستهزئين دیکھتے ہیں۔ اور وہ مسیح موعود ہے اور ہدایت کے هو المسيح الموعود، وهو كاسر واضح دلائل سے صلیب کو توڑنے والا ہے جیسے گزشتہ الصليب ببينات من الهدى، كما مسیح ناصری کو صلیب نے توڑ ڈالا تھا۔ اب اسلام کی كان الصليب كاسر مسيح خلا۔ شعاعوں کے لئے نصف النہار کا وقت ہے۔ اور وہ فالآن وقت الظهيرة لأشعة الإسلام، مسیح موعود سب سے زیادہ علم رکھنے والے اللہ کے حکم وأتى المسيح الموعود مهجرًا بأمر سے عین نصف النہار کے وقت آیا تا اللہ تاریکی کے الله العلام، ليظهر الله ضياء ه التام بعد مخلوق پر اس کی پوری روشنی ظاہر فرمائے چنانچہ على الأنام بعد الظلام۔ وقد ظهر اس کا صدق سمندر کی طرح موجزن ہے اور سیلاب صدقه كالبحر إذا ماج، والسيل إذا هاج۔ وكانت هذه الخطة مقدّرا کی طرح تند و تیز ہے۔ اور یہ منصو بے رحمان خدا کی طرف سے اس آخری زمانے میں اس کے لئے مقدر له في آخر الزمان من الله الرحمن، فظهر كما قدر ذو الامتنان۔ وإنه نظر تھے ۔ پس جیسا کہ حسن خدا نے مقدر کیا تھا وہ ظہور میں إلى البلاد الهندية فوجدها مستحقةً آگئے اور اللہ نے ملک ہند پر اپنی نظر ڈالی اور اسے لمقر هذه الخلافة، لأنها كانت اس خلافت کی قرار گاہ کا مستحق پایا کیونکہ یہ (ملک ) مَهْبَطَ الآدم الأول في بدء الخليقة ابتدائے آفرینش میں آدم اول کے اترنے کی جگہ تھی ہیں إنـا عـرفـنـا آدم هـهـنـا بـالـلام، فإنه استعمل ل ہم نے یہاں لفظ آدم کو ” دال “ کے ساتھ معرفہ کیا ہے لیکن كالنكرة في هذا المقام، وهو ليس عندى من دراصل وہ اس جگہ نکرہ کی طرح ہی استعمال کیا گیا ہے اور لفظ آدم الألفاظ العبرية۔ نعم يمكن توارد اللغتين وهو میرے نزدیک عبرانی الفاظ میں سے نہیں ۔ ہاں دونوں زبانوں میں كثير في تلك اللسان والعربية، وقد بينا في توارد ممكن۔ من ہے جو اس ( ( عبرانی عبرا ) اور عربی ربی میں میں کثرت کثرت سے موجود ہے أُمُّ الألسنة، وكلُّ اور ہم نے من الرحمن میں کھول کر بیان کیا ہے کہ عربی اُم الالسنة كتابنا منن الرحمن أن العربية أم ا لسان خَرَجَ منه عند مرور الزمان۔ منه ہے اور ہر زبان مرورزمانہ کے ساتھ ساتھ اس سے نکا ساتھ ساتھ اس سے نکلی ہے۔ ما منہ