الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 26
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۶ الاستفتاء وإذا قيل لهم تعالوا إلى كتاب اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی کتاب کی طرف آؤ الله يفتح بيننا وبينكم، قالوا بل کہ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے تو وہ وبينكم،قالوا کہتے ہیں۔نہیں بلکہ ہم تو اپنے گزشتہ بزرگوں کی نتبع كبراء نـا الأولين۔وتركوا پیروی کریں گے۔دراصل انہوں نے اللہ کے صحیفوں صحف الله وراء ظهورهم، کو اپنے پس پشت ڈال رکھا ہے۔اور تو انہیں دیکھتا وتراهم على غيرها عاكفين۔يفرون من الذى أُرسل إليهم، ہے کہ وہ دوسرے (صحیفوں ) پر جمے ہوئے ہیں۔وہ اس سے دور بھاگتے ہیں جو ان کی طرف بھیجا گیا وهو الحَكَم من الله، والله يشهد ہے۔حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے حکم ہے۔اور اللہ على صدقه وهو خير الشاهدين۔اس کے صدق کی گواہی دیتا ہے اور وہ بہترین گواہ وقد جاء على رأس المائة، ہے۔اور وہ صدی کے سر پر آیا اور اللہ نے اس کے وأنزل الله له آیات تشفی لئے ایسے نشانات نازل فرمائے جو بیمار کو شفا دیتے ہیں العليل، وتقصر القال والقيل اور قیل وقال کو محدود کرتے ہیں۔اور حد سے تجاوز ولا تنفع الآيات قومًا معتدين۔کرنے والی قوم کو نشانات کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے۔وإنه جاء في وقت الضرورة اور اے اہل دانش وہ عین ضرورت کے وقت اور وعند مصيبة صُبّت على الإسلام کفار کے ہاتھوں اسلام پر مصیبت آن پڑنے اور من أيدى الكفرة، وعند الكسوفين رمضان میں موعودہ سورج اور چاند گرہن کے موقع الموعودين في رمضان، يا أهل پر آیا ہے۔اور اس نے علی وجہ البصیرت حق کی الفطنة۔ودعا إلى الحق علی وجه طرف دعوت دی ہے اور ہر اس نشان سے اس کی البصيرة ، وأيّد بكل ما يؤيَّد به تائید کی گئی جس سے منتخب اور محبوب بندوں کی أهل الاجتباء والخُلّة۔واقتضى تائید کی جاتی ہے۔اور پھر زمانے نے بھی یہ تقاضا الزمان أن يجيء ، ویبست کیا کہ وہ آئے اور کافروں کا دلائل سے منہ بند الكفار، ويهدم ما عمروه، کرے اور انکی خود ساختہ عمارت کو منہدم کر دے۔