الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 25
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۵ الاستفتاء ولو نصر لاشتبه الأمر واختلط اگر اس کی نصرت کی جاتی تو معاملہ مشتبہ ہو جاتا اور الحق بالباطل، ولا يبقى الفرق حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا۔اور ان لوگوں بـيـن الـذيـن يـوحـى إليهم من الله کے درمیان جنہیں اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے وبين الذين هم يفترون۔ألا لعنة اور ان میں جو افتراء کرتے ہیں کوئی فرق باقی نہ رہتا۔سنو اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے اللہ الله على من افترى على الله أو پر افتراء کیا یا صادقوں کی تکذیب کی اور ہر وہ شخص كذب الصادقين۔وكـلّ مـن جس نے صادق کی تکذیب کی یا افتراء کیا اللہ كذب الصادق أو افترى جمعهم انہیں اس آگ میں اکٹھا کرے گا۔جوان کے لئے اللــه فـــى نــار أعدت لهم تیار کی گئی ہے اور جس سے وہ باہر نہیں نکل سکیں وليسوا منها بخـارجین گے۔اللہ ان سے پوچھے گا تم زمین میں گنتی کے قُل كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ کتنے سال رہے۔؟ تو وہ کہیں گے ہم ایک دن یا قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَتَلِ دن کا کچھ حصہ رہے۔پس شمار کرنے والوں سے الْعَادِينَ۔قُل اِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلا لو پوچھ۔وہ کہے گا تم نہیں رہے مگر بہت تھوڑا ( بہتر أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ وقال ہوتا ) اگر تم علم رکھتے۔اور تکذیب کرنے والے المكذبون مَالَنَا لا تَرى رِجَالاً کہیں گے ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم شریروں میں شمار کیا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ کرتے تھے اور جنہیں ہم مفتریوں میں شمار ونعدهم من المفترين۔فيومئذ کرتے تھے۔پس اس دن اللہ انہیں یہ بتائے گا يخبرهـم الـلـه بـأنهم في الجنّة کہ وہ تو جنت میں ہیں اور تم بھڑکتی ہوئی جہنم وأنكم في السعير خالدین۔هناك میں ایک عرصہ دراز تک رہو گے۔وہاں وہ جہنم يصدقون رُسُلَ الله تحت أنياب کی کچلیوں کے نیچے اللہ کے رسولوں کی تصدیق جهنم، فيا حسرةً على المكذبين! کریں گے۔پس افسوس ہے جھٹلانے والوں پر۔ل المؤمنون: ۱۱۳ تا ۱۱۵ = ص: ۶۳