الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 24

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۴ الاستفتاء نظيره في العالمين؟ ففكّروا یا معشر المتقين۔۔هل پس اے متقیوں کی جماعت ! غور کرو کیا کوئی يجوز العقل أن يُنعم الربّ عقل سلیم یہ جائز قرار دیتی ہے کہ رب قدوس کسی القدوس بهذه الإنعامات، ويؤيد ایسے شخص کو جسے وہ مفتری جانتا ہو ایسے انعامات بهذه التأييدات رجلا يعلم أنه من سے اسے سرفراز اور ایسی تائیدات سے اسے المفترين؟ وهل يوجد فيه نص أو مؤيد فرمائے ؟ اور کیا اس بارہ میں کوئی ایسی نص یا قول ربّ العالمين؟ وهل تجدون رب العالمین کا کوئی قول موجود ہے اور کیا تم اس کا ئنات میں اس کی کوئی نظیر پاتے ہو؟ وهل يجزم العقل باجتماع اور کیا عقل یہ قطعی فیصلہ کر سکتی ہے کہ یہ تمام باتیں ایک هذه الأمور كلها في كذاب كذاب میں جمع ہوں جو صبح وشام اللہ کی طرف جھوٹی يتقوّل على الله في الصباح باتیں منسوب کرتا ہے۔اور بے حیا ہو کر اپنے اس افتراء والمساء ، ولا يتوب من افترائه سے تو یہ نہیں کرتا۔لیکن پھر بھی اللہ اسے چھبیس سال بترك الحياء ؟ ثم يمهله الله تک مہلت دیتا ہے اور اسے اپنے غیب پر غالب کرتا ستا وعشرين سنة، ويُظهره علی ہے۔اور ہر جہت سے اور دشمنوں کے مقابل پر مباہلہ غيبه، وينصره من كلّ جهة، وفی میں اس کی مدد کرتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو ایسا كل مباهلة على الأعداء ؟ كلا۔۔كلمہ ہے کہ اسے کہنے والا احکم الحاکمین خدا پر ایمان نہیں بل هي كلمة لا يؤمن قائلها ركھتا۔خوب سن رکھو کہ اللہ کی لعنت ایسے لوگوں پر ہے جو بأحكم الحاكمين ألا إنّ لعنة الله پر افتراء کرتے ہیں۔اور ان لوگوں پر ہے جو اللہ الله على قوم يفترون علی الله کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں۔حالانکہ انہوں وعلى الذين يكذبون رسل الله نے ان کے صدق کے نشان دیکھے ہوتے ہیں لیکن پھر وقد رأوا آيات صدقهم، ثم كفروا بھی جانتے بوجھتے ہوئے انہوں نے اپنے اُن دیکھے بما رأوا وهم يعلمون ألا يرون ہوئے نشانوں کا انکار کیا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ أن الكاذب لا يُنصر كالصادق کاذب کی صادق کی طرح نصرت نہیں کی جاتی۔