الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 23

ضميمه حقيقة الوحي ۲۳ الاستفتاء وهل من أديب فيكم يأتي بمثل کیا تم میں کوئی ایسا ادیب ہے جو ایسا کلام پیش کر سکے ما أتاها؟ وإن لم تفعلوا ولن جیسا اس نے پیش کیا ہے۔ اگر تم ایسا نہ کر سکو اور تم تفعلوا فاعلموا أنها آية كمثل ہرگز ایسا نہیں کر سکو گے تو پھر جان لو کہ یہ کلام اہل نظر آيات أخرى لقوم ينظرون ۔ کے لئے دوسرے نشانوں کی طرح ایک نشان ہے۔ فخلاصة الكلام أن الله أنزل خلاصہ کلام یہ کہ اللہ نے اپنے اس بندے لهذا العبد كل آية، ونصره بكلّ کے لئے ہر نشان نازل فرمایا اور اس کی ہر طرح نصرة، وجمع فيه كل ما هو من کی نصرت فرمائی اور اس میں صادقوں کی تمام علامات الصادقين، وأمارات علامات اور مرسلوں کی تمام نشانیاں جمع کر المرسلين۔ وأدبه فأحسن تأدیبه دیں۔ اور کریمانہ اخلاق سکھا کر اور نیک اعمال بمكارم الأخلاق و توفیق کی توفیق دے کر اس کی بہترین تربیت فرمائی الصالحات، ووضعه تحت سنته اور اسے اپنی اس سنت کے نیچے رکھا جو تمام التي جرت لجميع الأنبياء ، فمن انبیاء کے لئے جاری ہے۔ لہذا جس نے اس پر صال عليه فقد صال علی حملہ کیا ، اس نے ان سب انبیاء پر اور ہر اس جميعهم وعلى كل من جاء من شخص پر حملہ کیا جو حضرت کبریاء کی طرف سے حضرة الكبرياء ۔ ثم مع ذالک آیا۔ پھر مزید برآں یہ کہ اللہ نے اسے خطرات وهب له الله وثوقا بعصمته لدی کے وقت پر اس کی حفاظت کا یقین دلایا اور الأهوال، واستقامةً وتثبتًا في تمام حالتوں میں استقامت اور ثبات قدمی بخشی جميع الأحوال، ونصره عند اور اس کے خلاف سازش کرنیوالوں کی سازش ۱۰ مكر الماكرين، ودفع عنه شر کے وقت اس کی مدد فرمائی اور شریروں کے أهل الشر، وضر أهل الضر، شر، اور ضرر پہنچانے والوں کے ضرر اور حملہ آوروں وكر أهل الكر، ورزقه الفرج کے حملہ سے اس کا دفاع کیا اور اسے تنگی کے بعد الشدة، والظلّ بعد الحرّ۔ بعد فراخی اور گرمی کے بعد سایہ عطا فرمایا ،