الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 22

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲ الاستفتاء فأين تذهبون ولا تفكرون ولا پھر تم کدھر جارہے ہو؟ نہ سوچ بچار کرتے ہو اور نہ تتقون؟ أتـقـولـون شـاعـر؟ وإن تقویٰ سے کام لیتے ہو، کیا تم یہ کہتے ہو کہ یہ شاعر ہے حالانکہ شاعر لوگ تو صرف لغو باتیں کرتے ہیں الشعراء لا ينطقون إلا بلغو، وهم اور وہ ہر وادی میں بہکتے پھرتے ہیں۔کیا تم نے في كلّ وادٍ يهيمون۔أرأيتم شاعرًا کبھی کوئی ایسا شاعر دیکھا ہے جو صداقت اور حقائق لا يترك الحق والحقايق، ولا کا دامن نہیں چھوڑتا اور صرف معارف و دقائق يقول إلَّا المعارف والدقائق، ولا کی بات کرتا ہے اور کلیۂ حکمت کی گفتگو کرتا ہے ينطق إلا بحكمة، ولا يتكلّم إلا اور صرف اور صرف ایسا کلام کرتا ہے جو معرفت بنکات مملوة من معرفة؟ بل کے نکات سے پُر ہو۔بلکہ شعراء تو واہیات باتیں الشعراء يتفوهون كالذين يهذرون کرنے والوں کی طرح باتیں کرتے ہیں۔یا أو كالمجانين الذين يهجرون مجنونوں کی طرح ہیں جو بے مقصد باتیں کرتے وتجدون هذا الكلام مملوا من ہیں۔جبکہ تم میرے اس کلام کو روحانی نکات اور النكات الروحانية، والمعارف الربانية رباني معارف سے لبریز پاؤ گے۔مزید برآں( یہ مع أنه ألطف صنعًا ، وأرق نسحًا، كلام) اپنی ساخت کے اعتبار سے بہت لطیف، بناوٹ کے لحاظ سے بڑا عمدہ اور الفاظ کے لحاظ سے بہت معیاری ہے اس میں تم کوئی بے مقصد وأشـرف لـفـظـا، ولا تجدون فيـه شيئًاهو خارج من المقصد ما لكم چیز نہیں پاؤ گے۔تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ غور وفکر لا تفكرون؟ ووالله إنّه ظِلُّ فصاحة نہیں کرتے ؟ اور اللہ کی قسم ! یہ کلام فصاحت القرآن، ليكون آيةً لقوم يتدبرون قرآنی کا پرتو ہے۔تاکہ وہ تدبر کرنے والوں أ تقولون سارق؟ فأتوا بصفحات کے لئے ایک نشان ہو۔کیا تم کہتے ہو کہ یہ چور ہے مسروقة كمثلها فى التزام الحق تو اگر تم سچے ہو تو ان جیسے مسروقہ صفحات (ہی) والحكمة إن كنتم تصدقون پیش کرو جن میں حق و حکمت کا ایسا التزام ہو۔