الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 239
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۹ الاستفتاء إِنَّ السُّمُوْمَ لَشَرُّمَا فِي الْعَالَمِ وَمِنَ السُّمُوْمِ عَدَاوَةُ الصُّلَحَاءِ بے شک تمام عالم میں بدترین چیز زہر ہے اور صالحین کی عداوت بھی زہروں میں سے ایک زہر سے ا ذَيْتَنِى خُبُنًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ إِن لَّمْ تَمُتْ بِالْخِزْيِ يَابْنَ بِغَاءِ ہے۔تو نے خباثت سے مجھے ایذا دی ہے پس اے سرکش! اگر تو رسوائی سے نہ مرا تو میں سچا نہیں۔اللَّهُ يُخْزِي حِزْبَكُمْ وَيُعِزُّنِى حَتَّى يَجِيءَ النَّاسُ تَحْتَ لِوَائِي اللہ تمہارے گروہ کو رُسوا کرے گا اور مجھے عزت دے گا یہاں تک کہ سب لوگ میرے جھنڈے تلے آجائیں گے۔يَارَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا بِكَرَامَةٍ يَامَنْ يَّرَى قَلْبِي وَلُبَّ لِحَائِي اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان از راہ کرم فیصلہ فرمادے۔اے وہ ذات جو میرے دل اور مغز پوست کو ( یعنی اندرونے کو ) جانتی ہے۔ـا مَنْ أَرَى أَبْوَابَه مَفْتُوحَةً لِلسَّائِلِينَ فَلَا تَرُدَّ دُعَائِي اے وہ ذات جس کے دروازے میں سوالیوں کے لئے کھلے پاتا ہوں۔پس میری دعا کو رڈ نہ فرما۔يَا آميـ ثم بعد ذالك كان مآل هذا العدوّ أنه مات بالطاعون خاسرًا خائبًا، فاعتبروا يا أولى الأبصار۔منه پھر اس کے بعد اس دشمن ( سعد اللہ لدھیانوی ) کا انجام یہ ہوا کہ وہ طاعون سے خائب و خاسر مر گیا۔پس اے اہل بصیرت عبرت حاصل کرو۔(منه)