الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 238
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۸ الاستفتاء مَا فَارَقَ الْكُفْرَ الَّذِي هُوَارُتُهُ ضَـاهـى أَبَاهُ وَأُمَّهُ بِعَمَـاءِ اس نے اس کفر کو نہیں چھوڑا جو اس کی میراث ہے اور اندھے پن میں اپنے ماں باپ کے مشابہ ہو گیا ہے۔قَدْ كَانَ مِنْ دُودِ الْهُنُودِ وَزَرْعِهِمْ مِنْ عَبْدَةِ الْأَصْنَامِ كَالْآبَاءِ وہ رکرم ہنود تھا اور انہی کی کھیتی میں سے تھا۔آباء و اجداد کی طرح بتوں کے پجاریوں میں سے تھا۔فَالْآنَ قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ شَقَاوَةٌ كَانَتْ مُبِيْدَةَ أُمِّهِ الْعَمْيَاءِ اب اس پر شقاوت غالب آ گئی ہے اور یہی شقاوت اس کی اندھی ماں کی ہلاکت کا موجب ہوئی تھی۔إِنِّي أَرَاهُ مُكَذِّبًا وَّمُكَفِّرًا وَمُحَقِّرًا بِالسَّبِّ وَالْإِزْرَاءِ میں اسے مکذب اور مکفر اور گالی گلوچ کے ساتھ حقارت کرنے والا اور عیب لگانے والا پاتا ہوں۔١٠) يُؤْذِى فَمَا نَشْكُرُ وَمَا نَتَأَسَّفُ كَلْبٌ فَيَغْلِيْ قَلْبُهُ لِعُوَاءِ وہ ایذا دیتا ہے سو نہ ہم شکوہ کرتے ہیں اور نہ افسوس۔وہ ایک کتا ہے اس کا دل بھونکنے کے لئے جوش مار رہا ہے۔كَحَلَ الْعِنَادُ جُفُونَهُ بِعَجَاجَةٍ فَالْآنَ مَنْ يَحْمِيهِ مِنْ أَقْدَاءِ عناد نے اس کی پلکوں میں غبار کا سرمہ ڈال دیا ہے اب اس کو آنکھ میں تنکا پڑ جانے سے کون بچا سکتا ہے۔يَالَا عِنِي إِنَّ الْمُهَيْمِنَ يَنظُرُ خَفْ قَهُرَ رَبِّ قَادِرٍ مَوْلَائِى مجھے لعنت کرنے والے! بے شک نگران خدا دیکھ رہا ہے تو میرے مولیٰ رب قادر کے قہر سے ڈر۔الْحَقُّ لَا يُصْلَى بِنَارِ خَدِيعَةٍ أَنَّى مِنَ الْخُفَّاشِ خَسُرُ ذُكَـاءِ حق کو مکر و فریب کی آگ سے جلایا نہیں جا سکتا۔چمگاڈر سے آفتاب کو نقصان کیسے پہنچ سکتا إِنِّي أَرَاكَ تَمِيسُ بِالْخُيَلَاءِ أَنَسِيتَ يَوْمَ الطَّعْنَةِ النَّجَلاءِ میں دیکھتا ہوں کہ تو تکبر سے مٹک مٹک کر چل رہا ہے کیا تو نے فراخ زخم کے لگنے کے دن کو بھلا دیا ہے؟ لَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ نَفْسِكَ شَقْوَةً يُلْقِيكَ حُبُّ النَّفْسِ فِي الْخَوْقَاءِ تو بدبختی سے اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔نفس کی محبت تجھے کنوئیں میں ڈال دے گی۔رَسٌ خَبِيتٌ خَفْ ذُرى صَهَوَاتِهِ خَفْ اَنْ تُزِلَّكَ عَدْوُ ذِى عُدَوَاءِ نس ایک خبیث گھوڑا ہے اس کی پشت پر سوار ہونے سے ڈر تو اس بات سے ڈر کہ تجھے ناہموار دوڑنے والے کی دوڑ گرانہ دے۔