الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 237
ضمیمه حقيقة الوحي يَا ۲۳۷ الاستفتاء شَمْسَنَا أَنْظُرُ رَحْمَةً وَتَحَنُّنَا يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ لِلْارُكَاءِ اے ہمارے آفتاب! رحمت اور مہربانی کی نگاہ ڈالئے۔مخلوق آپ کی پناہ کے لئے دوڑی آ رہی ہے۔أنْتَ الَّذِي هُوَ عَيْنُ كُلِّ سَعَادَةٍ تَهْوِي إِلَيْكَ قُلُوْبُ اَهْلِ صَفَاءِ تو ہی ہے جو ہر سعادت کا چشمہ ہے۔اہل صفاء کے دل تیری طرف مائل ہو رہے ہیں۔ـتَ الَّذِي هُوَ مَبْدَءُ الْأَنْوَارِ نَوَّرُتَ وَجْهَ الْمُدْنَ وَالْبَيْدَاءِ ١٠٦) تو ہی ہے جو مبدء انوار ہے تو نے شہروں اور بیابان کے چہرے کو منور کر دیا ہے۔إِنّى أَرى فِي وَجُهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَانًا يَّفُوْقَ شُونَ وَجْهِ ذُكَاءِ میں تیرے روشن چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایسی شان جو آفتاب کے چہرے کی شانوں سے بھی بڑھ کر ہے۔شَمْسُ الْهُدَى طَلَعَتْ لَنَا مِنْ مَّكَةٍ عَيْنُ النَّدَى نَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہمارے لئے مکہ سے ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا اور ہمارے لئے بخشش کا چشمہ غار حراء سے پھوٹا۔ضَاهَتْ آيَاةُ الشَّمُسِ بَعْضَ ضِيَاءِ هِ فَإِذَا رَأَيْتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائِى آفتاب کی روشنی آپ کی روشنی سے کچھ ہی مشابہت رکھتی ہے۔جب میں نے ( آپ کو دیکھا تو اس سے میری گریہ وزاری میں جوش آ گیا۔نَسْعَى كَفِتُيَانِ بِدِينِ مُحَمَّدٍ لَسْنَا كَرَجُلٍ فَاقِدِ الْأَعْضَاءِ ہم جوانوں کی طرح دین محمد کے لئے کوشاں ہیں۔ہم ایسے آدمی کی طرح نہیں جو بے دست و پا ہو۔أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ هِمَمَنَا فِي دِينِهِ نَبَنِى مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوْزَاءِ خدائے نگہبان نے ہماری ہمتوں کو اپنے دین کے بارے میں بلند کر دیا ہے۔ہم اپنے گھر برج جوزاء پر بنارہے ہیں۔إِنَّا جُعِلْنَا كَالسُّيُوفِ فَنَدَمَعُ رَأْسَ اللّنَامِ وَهَامَةَ الأعْدَاءِ ہم کو تلواروں کی طرح بنا دیا گیا ہے پس ہم کمینوں کے سر اور دشمنوں کی کھوپڑی پھوڑ دیتے ہیں۔وَمِنَ اللّقَامِ أَرَى رُجَيْلًا فَاسِقًا غُوْلًا لَعِيْنَا نُّطْفَةَ السُّفَهَاءِ اور کمینوں میں سے میں ایک مردک فاسق کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ملعون چھلاوا اور بے وقوفوں کا تخم ہے۔شَكْسٌ خَبِيتٌ مُفْسِدٌ وَّ مُزَوِّرٌ نَحْسٌ يُسَمَّى السَّعَدَ فِي الْجُهَلَاءِ وہ بد خُلق ، بڑا مفسد اور دروغگو ہے، منحوس شیون کہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔درست شئون ہے۔(ناشر) ہے جو جاہلوں میں سعد اللہ کہلاتا ہے۔