الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 21
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱ الاستفتاء نموذج استجابة الدعوات، وما وآية له أن الله يسمع دعاءه اور ایک اور نشان اس کے لئے یہ ہے کہ اللہ اس کی ولا يضيع بكاءه، وقد كتبنا في دعا سنتا ہے اور اس کی گریہ وزاری ضائع نہیں کرتا۔سنتا اور ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں دعاؤں کی كتابنا حقيقة الوحى كثيرا من قبولیت کے بہت سے نمونے تحریر کر دئے ہیں۔نیز اپنے رب کے حضور تضرعات سے توجہ کرنے کے فـضـل الـلـه عليه عند إقباله على وقت اس بندہ پر جو اللہ نے فضل فرمایا اسے بھی (لکھا ربه بالتضرعات، فلا حاجة أن ہے۔لہذا ہمیں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں پس نعيدها، فليرجع إليها من كان جو کوئی اسیر شبہات ہو ،اسے چاہیئے کہ اس (کتاب أسيرا في الشبهات۔حقیقۃ الوحی ) کی طرف رجوع کرے۔وآية له أن الله أفصح كلماته اور ایک نشان اس کے لئے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اپنی جناب سے اس کے کلمات کو عربی زبان میں حق من لدنه في العربية، مع التزام وحکمت کے التزام کے ساتھ فصاحت بخشی ہے۔ہر الحق والحكمة، وأنه ليس من چند کہ وہ عرب نہیں اور نہ ہی اسے ان کی زبان سے العرب، وما كان عارفًا بلسانهم كما حقه شناسائی تھی۔اور نہ ہی اس نے ادبی کتب كما هو حق المعرفة، وما تصفّح کے مجموعوں کی ورق گردانی کی تھی۔اور نہ ہی وہ ان دواوين الكتب الأدبية، وليس لوگوں میں سے تھا کہ جنہیں فصاحت کی چھاتیوں من الذين أرضعوا ثدى الفصاحة، سے دودھ پلایا گیا ہو۔لیکن پھر بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہ ہوا کہ وہ اس میدان کارزار میں اس کا ومع ذالك ما أمكن لبشر أن يبارزه مقابلہ کر سکے۔بلکہ وہ ذلت کے خوف سے اس کے في هذه الملحمة، بل ما قربوه قریب تک نہیں پھٹکے اور یہ فصاحت خدا داد وہ شربت من خوف الذلة۔وهذه شربة ما ہے جس کا لوگوں میں سے کسی نے گھونٹ تک تحساها أحد من الناس، بل سقاها نہیں پیا تھا۔بلکہ وہ اس کے رب نے اسے پلایا ربه فشرب من أيدى ربّ الأناس تو اس نے انسانوں کے رب کے ہاتھوں سے پیا۔