الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 21

ضميمه حقيقة الوحي ۲۱ الاستفتاء وآية لـه أن الله يسمع دعاء ه اور ایک اور نشان اس کے لئے یہ ہے کہ اللہ اس کی دعا ولا يضيع بكاءه، وقد كتبنا فی دعا سنتا ہے اور اس اسنتا ہے اور اس کی گریہ وزاری ضائع نہیں کرتا۔ كتابنا حقيقة الوحى كثيرا من اور ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں دعاؤں کی قبولیت کے بہت سے نمونے تحریر کر دئے ہیں۔ نیز نموذج استجابة الدعوات، وما اپنے رب کے حضور تضرعات سے توجہ کرنے کے فضل الله عليه عند إقباله على وقت اس بندہ پر جو اللہ نے فضل فرمایا اسے بھی ( لکھا ربه بالتضرعات، فلا حاجة أن ہے)۔ لہذا ہمیں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں پس نعيدها، فليرجع إليها من كان جو كوئى اسير شبہات ہو ، اسے چاہیئے کہ اس (کتاب أسيرا في الشبهات۔ حقیقة الوحی ) کی طرف رجوع کرے۔ وآية له أن الله أفصح كلماته اور ایک نشان اس کے لئے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اپنی جناب سے اس کے کلمات کو عربی زبان میں حق من لدنه في العربية، مع التزام و حکمت کے التزام کے ساتھ فصاحت بخشی ہے۔ ہر الحق والحكمة، وأنه ليس من چند کہ وہ عرب نہیں اور نہ ہی اسے ان کی زبان سے العرب، وما كان عارفًا بلسانهم كما حقہ شناسائی تھی۔ اور نہ ہی اس نے ادبی کتب كما هو حق المعرفة، وما تصفّح کے مجموعوں کی ورق گردانی کی تھی۔ اور نہ ہی وہ ان دواوين الكتب الأدبية، وليس لوگوں میں سے تھا کہ جنہیں فصاحت کی چھاتیوں من الذين أرضعوا لدى الفصاحة، سے دودھ پلایا گیا ہو۔ لیکن پھر بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہ ہوا کہ وہ اس میدان کارزار میں اس کا ومع ذالك ما أمكن لبشر أن يبارزه في هذه الملحمة، بل ما قربوه مقابلہ کر سکے۔ بلکہ وہ ذلت کے خوف سے اس کے قریب تک نہیں پھٹکے اور یہ فصاحت خدا داد وہ شربت من خوف الذلة۔ وهذه شربة ما ہے جس کا لوگوں میں سے کسی نے گھونٹ تک تحساها أحد من الناس، بل سقاها نہیں پیا تھا۔ بلکہ وہ اس کے رب نے اسے پلایا ربه فشرب من أيدى ربّ الأناس ۔ تو اس نے انسانوں کے رب کے ہاتھوں سے پیا۔