الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 236

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۶ الاستفتاء (۱۰۵) قَالُوا كَذُوبٌ كَيْذُبَانٌ كَاذِبٌ بَلْ كَافِرٌ وَّ مُزَوِّرٌ وَّمُرَائِي انہوں نے کہا کہ یہ کاذب ہے کذاب ہے اور مجسم جھوٹ ہے بلکہ کافر ہے فریبی ہے اور ریا کار ہے۔مَنْ مُخْبِرٌ عَنْ ذِلَّتِي وَ مُصِيبَتِى مَوْلَايَ خَتْمَ الرُّسُلِ بَحْرَ عَطَاءِ کوئی ہے جو میری ذلت اور مصیبت کی خبر دے میرے مولا خاتم الرسل کو جو بخشش کا سمندر ہیں۔يَا طَيِّبَ الْأَخْلَاقِ وَالْأَسْمَاءِ أَفَأَنْتَ تُبْعِدُنَا مِنَ الأَلَاءِ اے پاکیزہ اخلاق اور پاک ناموں والے نبی ! کیا تو ہمیں اپنی نعمتوں سے دور رکھے گا۔أَنْتَ الَّذِي شَغَفَ الْجَنَانَ مَحَبَّةٌ أَنْتَ الَّذِي كَالرُّوحِ فِي حَوْبَائِي تو وہ ہے جس کی محبت دل میں گھر کر گئی ہے۔تو وہ ہے جو میرے بدن میں روح کی طرح ہے۔أنتَ الَّذِي قَدْ جُذِبَ قَلْبِى نَحْوَهُ اَنْتَ الَّذِي قَدْ قَامَ لِلِاصْبَاءِ تو وہ ہے کہ جس کی طرف میرا دل کھچا ہوا ہے۔تو وہ ہے جو میری دلبری کے لئے کھڑا ہے۔اَنْتَ الَّذِي بِوَدَادِهِ وَبِحُبِّهِ أَيَدْتُ بِالْإِلْهَامِ وَالْإِلْقَاءِ تو و وہ ہے کہ جس کی محبت اور دوستی کے باعث میں الہام اور القاء الہی سے تائید یافتہ ہوا۔اَنْتَ الَّذِي أَعْطَى الشَّرِيعَةَ وَالْهُدَى نَجى رِقَابَ النَّاسِ مِنْ أَعْبَاءِ تو وہ ہے جس نے شریعت اور ہدایت دی ہے اور لوگوں کی گردنوں کو بوجھوں سے نجات دی ہے۔هَيْهَاتَ كَيْفَ نَفِرُّ مِنْكَ كَمُفْسِدٍ رُوحِي فَدَتُكَ بِلَوْعَةٍ وَّ وَفَاءِ ہم تجھ سے مفسد کی طرح کیسے بھاگ سکتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے۔میری تو جان بھی آپ پر سوزشِ عشق اور وفاداری سے قربان ہے۔مَنتُ بالقُرآن صُحُفِ الهِنَا وَبِكُلِّ مَا أَخْبَرُتَ مِنْ أَنْبَاءِ میں اپنے معبود کے صحیفوں (یعنی) قرآن پر ایمان لایا ہوں اور ان تمام اخبار غیبیہ پر بھی جن کی تو نے خبر دی۔يَا سَيِّدِي يَامَونِلَ الضُّعَفَاءِ جِئْنَاكَ مَظْلُومِينَ مِنْ جُهَلَاءِ اے میرے سردار! اے ضعیفوں کی جائے پناہ! ہم تیرے پاس جاہلوں (کے ظلم) سے مظلوم ہو کر آئے ہیں۔إِنَّ الْمَحَبَّةَ لَا تُضَاعُ وَتُشْتَرى إِنَّا نُحِبُّكَ يَا ذُكَاءَ سَخَاءِ محبت ضائع نہیں ہوتی بلکہ اس کی قیمت پڑتی ہے۔اے آفتاب سخاوت! یقیناً ہم تجھ سے محبت رکھتے ہیں۔ا