الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 235

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۵ الاستفتاء أُعْطِيتُ لُسُنَّا كَاللَّقُوحِ مُرَوّيًا وَفَصِيْلُهَا تَأْثِيرُهَا بِهَاءِ میں ایسے محاورات زبان دیا گیا ہوں جو بہت دو دھیل اونٹنی کی طرح سیراب کرنے والے ہیں اور اس کا بچہ اس کی خوبصورت تاثیر ہے۔إِنْ شِئْتَ كِدْكُلَّ الْمَكَائِدِ حَاسِدًا اَلْبَدْرُ لَا يَغْسُرُ بِلَغُي ضِرَاءِ اگر تو چاہے تو ہر ایک مکر حسد کرتے ہوئے کر گذر۔چودھویں کا چاند کتوں کے شور سے بے نور نہیں ہو جاتا۔كَذَّبُتَ صِدِّيقًا وَّجُرُتَ تَعَمُّدًا وَلَئِنْ سَطَا فَيُرِيْكَ قَعُرَ عَفَاءِ تو نے ایک صدیق کی تکذیب کی ہے اور عمد انا انصافی کی ہے اور اگر وہ تجھ پر حملہ کر دے تو تجھے زمین کی گہرائی دکھا دے گا۔مَا شَمَّ أَنْفِي مَرْغَمًا فِي مَشْهَدِ وَأَثَرْتُ نَقْعَ الْمَوْتِ فِي الْأَعْدَاءِ میری ناک نے کسی جنگ میں ذلت کی بو نہیں سونگھی اور میں نے دشمنوں میں موت کا غبار اڑا دیا ہے۔وَاللَّهِ أَخْطَأْتُمْ لِنَكْبَةِ بَخْتِكُمُ بَارَيْتُمُ ابْنَ كَرِيْهَةٍ فَجَّاءِ خدا کی قسم اتم نے اپنی بدبختی کی وجہ سے غلطی کی ہے کہ اس شخص سے لڑائی ٹھانی ہے جولڑائی کا دھنی اور اچانک حملہ کرنے والا ہے۔إِنِّي بِحِقْدِكَ كُلَّ يَوْمٍ أَرْفَعُ اَنُمِي عَلَى الشَّحْنَاءِ وَالْبَغْضَاءِ میں تیرے کینے کی وجہ سے ہر روز بلند مرتبہ پا رہا ہوں اور باوجود تمہارے بغض اور کینے کے ترقی کر رہا ہوں۔نِلُنَا ثُرَيَّاءَ السَّمَاءِ وَسَمُكَهُ لِنَرُدَّ إِيمَانًا إِلَى الْغَبْرَاءِ نے آسمان کے ثریا اور اس کی بلندی کو پا لیا ہے تاکہ ہم ایمان کو زمین کی طرف لوٹائیں۔أنْظُرُ إِلَى الْفِتَنِ الَّتِي نِيرَانُهَا تُجْرِى دُمُوعًا بَلُ عُيُونَ دِمَاءِ ان فتنوں کی طرف دیکھو جن کی آگیں آنسو جاری کرتی ہیں بلکہ خون کے چشمے۔فَا قَامَنِي الرَّحْمَنُ عِنْدَ دُخَانِهَا لِفَلَاحِ مُدَّلِحِينَ فِي اللَّيْلَاءِ ان فتنوں کے دھوئیں کے وقت خدائے رحمان نے مجھے کھڑا کیا ہے تاریک رات میں چلنے والوں کو نجات بخشنے کے لئے۔وَقَدِ اقْتَضَتُ زَفَرَاتُ مَرْضَى مَقْدَمِي فَحَضَرُتُ حَمَّالًا كُنُوسَ شِفَاءِ مریضوں کی آہوں نے میری آمد کا تقاضا کیا تو میں ان کے لئے شفا کے پیالے اٹھائے ہوئے حاضر ہو گیا۔لَمَّا أَتَيْتُ الْقَوْمَ سَسُوا كَالْعِدَا وَتَخَيَّرُوا سُبُلَ الشَّقَا بِابَاءِ جب میں قوم کے پاس آیا تو اس نے مجھے دشمنوں کی طرح گالیاں دیں اور انکار کی وجہ سے بدبختی کے رستے کو اختیار کر لیا۔