الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 234

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۴ الاستفتاء هَلْ فِي جَمَاعَتِهِمْ بَصِيرٌ يَّنْظُرُ نَحْوِی كَمِثْلِ مُبَصِّرٍ رَّنَّاءِ کیا ان کی جماعت میں کوئی بصیرت مند ہے جو دیکھے۔میری طرف ایک غور کرنے والے مبصر کی طرح۔مَا نَاصَلُونِي ثُمَّ قَالُوا جَاهِلٌ أنظُرُ إِلى اِيُدَائِهِمْ وَجَ انہوں نے مجھ سے مقابلہ تو نہ کیا اور کہہ دیا کہ جاہل ہے۔ان کی ایذا اور ظلم کو دیکھ۔دَعْوَى الْكُمَاةِ يَلُوحُ عِنْدَ تَقَابُلِ حَدُّ الظُّبَاةِ يُنِيرُ فِي الْهَيْجَاءِ ☆ ہے۔بہادروں کا دعوی مقابلہ ہی ظاہر ہوتا ہے۔تلواروں کی دھار جنگ میں ہی چمکتی رَجُلٌ بِبَطْنِ بَطَالَةَ بَطَّالَةٌ تَعْلِي عَدَاوَتُهُ كَرَعْدِ طَخَاءِ ایک آدمی جو بٹالہ میں رہتا ہے بہت ہی ناکارہ ہے۔اس کی عداوت بادل کی گرج کی طرح جوش مارتی ہے۔لَا يَحْضُرُ الْمِضْمَارَ مِنْ خَوْفٍ عَرَا يَهْذِى كَنِسُـوَانٍ بِحُجُبِ خِـفَـاءِ اس خوف کی وجہ سے جو اسے لاحق ہے وہ میدان میں نہیں آیا۔وہ پوشیدگی کے پردوں میں عورتوں کی طرح بدزبانی کرتا ہے۔قَداثَرَ الدُّنْيَا وَجِيْفَةَ دَشْتِهَا وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِّنْ حَيَاةِ غِطَاءِ اس نے دنیا اور اس کے جنگل کے مردار کو پسند کر لیا۔غافلانہ و محجوبانہ زندگی سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔يَاصَيدَ أَسْيَافِى إِلَى مَا تَأْبِرُ لَا تُنْجِيَنَّكَ سِيرَة الْأَطْلَاءِ اے میری تلوار کے شکار! تو کب تک اچھل کود کرے گا۔ہرن کے بچوں کا کردار تجھے نجات نہیں دے گا۔جَّسُتَ اَرْضَ بَطَالَةَ مَنْحُوسَةً أَرْضٌ مُـحَـرُبِنَةٌ مِنَ الْحِـرُبَاءِ تو نے بٹالہ کی منحوس زمین کو جو گرگٹوں کی آماجگاہ ہے ناپاک کر دیا ہے۔إِنِّي أُرِيدُكَ فِي النِّضَالِ كَصَائِدٍ لَا يَرُكَنَنُ أَحَدٌ إِلَى ارُزَاءِ میں تجھے مقابلے میں شکاری کی طرح چاہتا ہوں پس چاہیئے کہ کوئی تجھے پناہ دینے کی طرف مائل نہ ہو۔١٠٣) صَدْرُ الْقَنَاةِ يَنُوشُ صَدْرَكَ ضَرْبُهُ وَيُرِيكَ مُرَّانِى بِحَارَ دِمَاءِ نیزے کی اتنی کا یہ حال ہے کہ اس کی ضرب تیرے سینے کو چھید دے گی۔اور میرے لچکدار مضبوط نیزے تجھے خون کے دریا دکھا دیں گے۔جَاشَتُ إِلَيْكَ النَّفْسُ مِنْ كَلِمَاتِنَا خَوْفًا فَكَيْفَ الْحَالُ عِنْدَ مِرَائِي میرے کلمات سے خوف کے مارے تیری جان لبوں تک پہنچ گئی ہے تو مجھ سے مباحثہ کے وقت تیرا کیا حال ہو گا ؟ م تعلی سہو کتابت معلوم ہوتی ہے۔درست تعلی ہے۔فارسی ترجمے سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔(ناشر)