الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 233

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۳ الاستفتاء صَعُبٌ عَلَيْكَ سِرَاجُنَا وَضِيَاءُنَا تَمْشِي كَمَشي اللصّ فِي اللَّيْلَاءِ ہمارا چراغ اور ہماری روشنی تجھ پرگراں ہے تو اندھیری رات میں چوروں کی طرح چل رہا ہے۔تَهُذِئ وَايْمُ اللَّهِ مَالَكَ حِيْلَةٌ يَوْمَ النُّشُورِ وَعِنْدَ وَقْتِ قَضَاءِ تو بیہودہ گوئی کر رہا ہے اور بخدا قیامت کے دن اور فیصلے کے وقت تیرے لئے کوئی حیلہ نہ ہو گا۔بَرْقٌ مِّنَ الْمَوْلَى نُرِيْكَ وَمِيْضَهُ فَاصْبِرُ كَصَبْرِ الْعَاقِلِ الرَّبَّاءِ یہ مولی کی طرف سے بجلی ہے جس کی چمک ہم تجھے دکھا ئیں گے پس تو غور سے دیکھنے والے عاقل کی طرح صبر کر۔وَارَى تَغَيُّظَكُمْ يَفُورُ كَلُجَّةٍ مَوْجٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَوْ هَوْجَاءِ اور میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا غصہ گہرے پانی کی طرح جوش مار رہا ہے اس کی لہر سمندر کی لہر یا تند ہوا کی طرح ہے۔وَاللَّهِ يَكْفِى مِنْ كُمَاةٍ نِضَالِنَا جَلَدٌ مِّنَ الْفِتَيَان لِلاعْدَاءِ خدا کی قسم ! ہمارے جنگجو بہادروں میں سے ایک جواں مرد دلیر ہی سب دشمنوں کے لئے کافی ہو گا۔إِنَّا عَلَى وَقْتِ النَّوَائِبِ نَصْبِرُ نُزْجِي الزَّمَانَ بِشِدَّةٍ وَّرَخَاءِ ے شک مصیبتوں کا وقت آنے پر ہم صبر کرتے ہیں ہم تنگی اور فراخی کی حالت میں زمانہ گزار دیتے ہیں۔فِتَنُ الزَّمَانِ وُلِدْنَ عِندَ ظُهُورِكُمْ وَالسَّيْلُ لَا يَخُلُو مِنَ الْغَفَّاءِ تمہارے ظاہر ہوتے ہی زمانہ کے فتنے پیدا ہو گئے اور فتنوں کا سیلاب خس و خاشاک سے خالی نہیں ہوتا۔عِفْنَا لقَيَّاكُمْ وَلَا اسْتَكْرِهُ لَوْحَلَّ بَيْتِي عَاسِلُ الْبَيْدَاءِ ١٠٣) ہم تمہاری ملاقات سے کراہت کرتے ہیں حالانکہ میں نہیں کراہت کرتا اگر چہ میرے گھر میں جنگل کا بھیڑیا ہی اتر پڑے۔أَلْيَوْمَ أَنْصَحُكُمْ وَكَيْفَ نَصَاحَتِي قَوْمٌ أَضَاعُوا الدِّينَ لِلشَّحْنَاءِ آج میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔اور میری نصیحت سے کیسے فائدہ اٹھاسکتی ہے وہ قوم جس نے دین کو کینے کی وجہ سے ضائع کر دیا۔قُلْنَا تَعَالَوْا لِلنِّضَالِ وَنَاضِلُوا فَتَكَنَّسُوا كَالظَّبُـي فِي الْأَفْلَاءِ ہم نے کہا کہ مقابلے کے لئے آؤ اور مقابلہ کرو پس وہ چھپ گئے جس طرح ہرن بیابانوں میں چھپ جاتا ہے۔لَا يُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ حَقِيقَةً وَتَهَالَكُوا فِي بُخْلِهِمْ وَ رِيَاءِ وہ بصیرت اختیار نہیں کرتے اور نہ حقیقتِ حال کو دیکھتے ہیں اور اپنے بخل اور ریا میں مر چکے ہیں۔