الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 232
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۲ الاستفتاء اَللَّهُ أَيَّدَنِي وَصَافَا رَحْمَةً وَاَمَدَنِي بِالنِّعَمِ وَالأَلَاءِ اللہ نے میری تائید کی ہے اور اپنی رحمت سے دوست بنایا ہے اور مجھے قسم قسم کی نعمتوں سے مدد دی ہے۔فَخَرَجْتُ مِنْ وَهُدِ الضَّلَالَةِ وَالشَّقَا وَدَخَلْتُ دَارَ الرُّشْدِ وَالْإِدْرَاءِ پس میں بدبختی اور گمراہی کے گڑھے سے نکل گیا ہوں اور میں ہدایت اور تعلیم دینے کے گھر میں داخل ہو گیا ہوں۔وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ سَقَط كُلُّهُمْ إِلَّا الَّذِي أَعْطَاهُ نِعَمَ لِقَاءِ اور اللہ کی قسم ! سب کے سب لوگ بریکار ھے ہیں سوائے اس شخص کے جسے خدا نے اپنے دیدار کی نعمت دی ہو۔إِنَّ الَّذِي أَرْوَى الْمُهَيْمِنُ قَلْبَهُ تَأْتِيهِ أَفْوَاجُ كَمِثْلِ ظِمَـاءِ وہ شخص جس کے دل کو خدائے نگہبان نے سیراب کر دیا ہو اس کے پاس فوجوں کی فوجیں پیاسوں کی طرح آتی ہیں۔رَبُّ السَّمَاءِ يُعِزُّهُ بِعِنَايَةٍ تَعْنُوْ لَهُ أَعْنَاقُ أَهْلِ دَهَاءِ آسمان کا مالک اپنی عنایت سے اسے عزت دیتا ہے اور عقلمندوں کی گردنیں اس کے آگے جھک جاتی ہیں۔(۱۰۲) الْأَرْضُ تُجْعَلُ مِثْلَ غِلْمَانِ لَهُ تَأْتِي لَهُ الْأَفْلَاكُ كَالْخُدَمَاءِ زمین اس کے لئے غلاموں کی طرح بنا دی جاتی ہے اور آسمان اس کے لئے خادموں کی طرح ہو جاتے ہیں۔مَنْ ذَالَّذِي يُخْزِى عَزِيزَ جَنَابِهِ اَلْأَرْضُ لَا تُغْنِي شُمُوسَ سَمَاءِ وہ کون ہے جو جناب الہی کے پیارے کو ذلیل کرے آسمان کے سورجوں کو زمین فنا نہیں کر سکتی۔الْخَلْقُ دُودْ كُلُّهُمْ إِلَّا الَّذِى زَكَّاهُ فَضُلُ اللَّهِ مِنْ أَهْوَاءِ خلقت ساری کی ساری کیڑے کی حیثیت رکھتی ہے سوائے اس شخص کے جسے اللہ کے فضل نے ہوا و ہوس سے پاک کر دیا ہو۔فَانُهَضُ لَهُ إِنْ كُنْتَ تَعْرِفُ قَدْرَهُ وَاسْبِقُ بِبَذَلِ النَّفْسِ وَالْإِعْدَاءِ پس تو اس شخص کی خاطر اٹھ اگر تو اس کی قدر پہچانتا ہے اور نفس کو قربان کرنے اور دوڑانے میں سبقت لے جا۔اِنْ كُنتَ تَقْصِدُ ذُلَّهُ فَتَحَقَّرُ وَسَتَخْسَتَنُ كَالْكَلْبِ يَوْمَ جَزَاءِ اگر تو اس کی ذلت چاہتا ہے تو تو خود حقیر کیا جائے گا اور کتے کی طرح جزا کے دن راندہ درگاہ ہو گا۔غَلَبَتْ عَلَيْكَ شَقَاوَةٌ فَتُحَقِّرُ مَنْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ كُرَمَاءِ تجھ پر بدبختی غالب آ گئی ہے سو تو حقیر جانتا ہے اس شخص کو جو اللہ کے نزدیک معززین میں سے ہے۔